Qoum Ka Agla Playboy Hukmran Bilawal Zardari, قوم کا اگلا پلے بوائے حکمران بلاول بھٹو زارداری، فاروق درویش کا کالم a column written by Farooq Darwesh

Qoum Ka Agla Playboy Hukmran Bilawal Zardari, قوم کا اگلا پلے بوائے حکمران بلاول بھٹو زارداری، فاروق درویش کا کالم a column written by Farooq Darwesh

Qoum Ka Agla Playboy Hukmran Bilawal Zardari, قوم کا اگلا پلے بوائے حکمران بلاول بھٹو زارداری، فاروق درویش کا کالم a column written by Farooq Darwesh. The article was published on December 31, 2013.

Dodh peeta Chairman – by Asadullah Ghalib  - شیرخوارچیئرمین

Dodh peeta Chairman – by Asadullah Ghalib - شیرخوارچیئرمین

بلاول بھٹو سیاست میں اڈاریاں مار رہا ہے، اپنے نانا، اپنی ماں اور اپنے باپ کی
نقل کرتے ہوئے مخالفوں کی بھد اڑا رہا ہے، بھٹو نے اس قسم کی سیاست کی ابتدا کی تھی، نور خاں پر اصغر خان کی پھبتی کسی۔ لاہور کی مال روڈ پر نورانی کی پگڑی اچھالی گئی، ایک کارٹون میں مودودی کا سر ایک رقاصہ کے دھڑ پر ٹکا دیا گیا۔اور آخری وار قائد اعظم کے پاکستان اور ان کے نظریہ جمہوریت پر یہ کہہ کر کیا گیا کہ ادھر ہم، ادھر تم۔ اور پھر انہونی ہو کر رہی۔
والدہ کی تربیت خاص طور پر بھٹو نے کی تھی، جیل کی کال کوٹھری میں کانا پھوسی کے انداز میں اسے سیاست کے گر سکھائے۔ بے نظیر سیاست کے میدان میں اتری تو اس نے نواز شریف کا ایک فقرے میں جھٹکا کر دیا، بات کہنے کی نہیں ، کہ بات ہے رسوائی کی مگر بے نظیر نے سر عام کہی اور میڈیامیں چھپی، نواز شریف کو شیر کا بچہ کہا جاتا تھا، بے نظیر نے اسے تہمت بنا دیا۔ لاحول ولا۔ اور پھر نوازکے ایک متوالے شیخ رشید محترمہ کے بارے میں فحش کلامی کرتے رہے۔ حسین حقانی نے اک پمفلٹ چھاپااورلاکھوں کے ایک جلوس میں تقسیم کیا گیا، اس پمفلٹ پر نصرت بھٹو کی تصویر تھی جو رقص میں مصروف تھیں۔ زرداری کو سیاسی میراث ملی تو انہوں نے بھٹو کی طرح پاکستان کو للکارا اور بار بار للکارا کہ پہلے ہتھیار ڈالے تھے تو چند لاکھ قیدی تھے جو بھارت نے سنبھال لئے ، پھر افغان مہاجرین کو پاکستان نے پناہ دے دی لیکن اگر بیس کروڑ انسانوں کو ہجرت کے عذاب سے گزرنا پڑا تو روئے زمین ان پر تنگ ہو جائے گی، زرداری نے یہ دھمکیاں گڑھی خدا بخش کی تقریروں میں دیں اور صدر مملکت ہوتے ہوئے دیں، ان کا مطلب یہ تھا کہ سندھ کی پارٹی کے ساتھ اب کسی نے چھیڑ چھاڑ کی تو دمام دم مست قلندر ہو گا اور بیس کروڑ پاکستانیوں کو جائے اماں نہیںمل پائے گی۔زرداری سال بھر ایوان صدر میں چھئی مار کر بیٹھے رہتے اور دسمبر میں گڑھی خدا بخش کا رخ کرتے تو ان کے اندر سے ایک آتش فشاں پھوٹ نکلتا۔
بلاول کو بھٹو، بے نظیر اور زرداری کی تقریروں کی فلمیں دکھا دکھا کر اسٹیج پر دھکیلا گیاہے۔ زرداری اور بلاول کا سپیچ رائٹر ایک نہیں ہے، ان کو تقریر میںجوش وجذبہ دکھانے کا فن بھی سکھانے والا کوئی اور ہے ۔ اگرچہ ان کے عین عقب میں ہشام ریاض شیخ کھڑے نظر آتے ہیں جو ایک عرصے سے بلاول کے پولیٹیکل سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن ان سے ایسی استادی کی توقع ہر گز نہیں کی جا سکتی۔ و ہ تو اپنے ملنے والوں کے سامنے کبھی ہونٹ بھی کھولتے دکھائی نہیں دیئے۔چلئے استاد کوئی بھی ہو سکتا ہے، شاگرد تو بلاول ہی ہے نا اور سمجھ یہ آ رہی ہے کہ ایک ناپختہ بلاول کو سیاست کے گھوڑے پر سوار کرا دیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ابھی زرداری ایک اننگز تو بڑی آسانی سے کھیل سکتے ہیں، مک مکا کا فارمولا کارگر ثابت ہو رہا ہے، پہلے زرداری نے کہا کہ میاں جی قدم بڑھاﺅ ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ، اب بلاول کہہ رہا ہے کہ انکل نواز! میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔یہ ساتھ مارشل لا کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی حد تک ہے ورنہ کہاں بلاول اور کہاں انکل نواز، انکل تو اسے شاید اگلے بیس برس تک ملنے کا ٹائم ہی نہ دیں،کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔
پچھلے الیکشنوں میں بی اے کی شرط نے کئی جغادری سیاستدانوں کو انتخابی سیاست سے باہر کر دیا ، ہر کسی کو اپنا بی اے پاس ہونہار بروا آگے لانا پڑا ، نتیجہ یہ ہوا کہ اسمبلیوں میں چوسنی گروپ کی بھرمار ہو گئی، انہیں تو کسی یونین کونسل کو چلانے کا تجربہ نہیںتھا کجا ان کو وزارتیں مل گئیں اور وہ بھی اہم اور کلیدی۔ان کے ابھی کھیلنے کودنے کے دن تھے، مگران کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاںچھن گئیں۔اور پہاڑ جیسے مسائل ان کے کندھوں پر آن پڑے۔حمزہ، مریم،بلاول ،بختاور، آصفہ کو نو عمری اور نوجوانی دیکھنا نصیب ہی نہ ہوئی،انہیں مغل اعظم کے شاہی دربار میں بٹھا دیا گیا، جیالے اور متوالے ان کے آگے پیچھے تھے۔ مغل شہزادوں کی طرح کار شاہی ان کو بیٹھے بٹھائے ورثے میں مل گیا، آسمان سے ہن برسنے لگا، سوس بنکوں کی دولت، لندن اور پیرس کے محلات، ملکوں ملکوں پھیلا ہوا کاروبار اور عالمی شاطروں سے براہ راست تعلقات ۔ا ب پاکستان کی قسمت اس شیر خوار ٹولے کے ہاتھ میں ہے، کار حکومت اور کار سیاست جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور سیاسی طور پر نابالغ بچوں کے ہاتھ لگ گیا ہے، اللہ خیر ہی کرے۔
اور اللہ خیر ہی کرے گا ۔ اس وقت ملک میںباسٹھ فی صد سے اوپر وہ نوجوان ہیں جو پچیس سے تیس سال کی عمر کے ہیں لیکن سب کے سب جدید تعلیم اور ہنر سے آراستہ۔ وہ روایتی سیاستدانوں سے بیزار ہیں۔ایم پی اے اور ایم این اے کی حویلیوںکا طواف کرنا ان کی اناکو گوارا ہی نہیں، وہ ڈھور ڈنگروں کی طرح ہانکے نہیں جا سکتے، وہ نہ متوالے ہیں، نہ جیالے ، انہوںنے عمران خاں کے کھوکھلے پن کو بھی دیکھ لیا، ان پر لیپ ٹاپ کی بازی گری بھی اثر نہیں کر سکی۔وہ سودی قرضے کے جنجال میں بھی پھنسنے کے لئے تیار نہیں، وہ قوموں کی برادری میں برابری کے اصول پر زندہ رہنے کی امنگ سے سرشار ہیں ، انہیں امریکی غلامی قبول ہے ، نہ وہ بھارتی سامراج کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ ان باسٹھ فی صد نوجوانوں کو صحیح راستہ نہ دکھایا گیا تو وہ ایک بم کی طرح پھٹیں گے اور پرانی طرز سیاست کو بھسم کر کے رکھ دیں گے۔زرداری نے کہا ہے کہ بلارات کو آکر دودھ پی جاتا تھا، زرداری جس محلول کو دودھ کہتے ہیں ، وہ اصل میںپرانی باسی لسی تھی،جس میں سے مکھن بھی نکال لیا گیا تھا اور بالائی پہلے چاٹ لی گئی تھی۔ فوجی بلوں نے دودھ کی بجائے باسی لسی پر گزارا کیا، زرداری صاحب حساب لگائیں کہ کسی ایک سیاستدان کے شیر خوار بچے کی دولت ایک طرف اور تمام فوجی جرنیلوں کی دولت ایک طرف ، پھر بھی شیر خوار کا پلڑا بھاری ثابت ہو گا۔
نئی نسل اس لوٹ مارا ور کرپشن کے خلاف ہے۔ پاکستان میں برسر اقتدار طبقہ کرپشن میں لتھڑا ہو اہے جبکہ نوجوان ایک شفاف ٹرانسپیرنٹ نظام چاہتے ہیں، زر خرید ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل والا نظام ہرگز نہیں۔ میاں شہباز تو کئی بار خونیں انقلاب کی وعید سنا چکے ہیں، مگر کیا اس خونیں انقلاب سے دفاع کے لئے ہمارے پاس صرف بلاول، حمزہ اور مریم کا ٹرپل ون بریگیڈ ہی دستیاب ہے یا ہم اپنے جینوئن نوجوانوں کو رستہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ بہتر ہو گا کہ شیر خواروں کے منہ میں چوسنی ٹھونس کر ابھی کسی پنگھوڑے میں ڈال دیا جائے۔

ُPublished in Nawa-i-Waqt  31 Dec 13
3 November ki emergency par itimad main na leney ki baten karne waly jhotay hin – Chaudhry Shujaat – 3 نومبر کی ایمرجنسی پر اعتماد میں نہ لینے کی باتیں کرنے والے جھوٹے مکار ہیں۔۔۔۔

3 November ki emergency par itimad main na leney ki baten karne waly jhotay hin – Chaudhry Shujaat – 3 نومبر کی ایمرجنسی پر اعتماد میں نہ لینے کی باتیں کرنے والے جھوٹے مکار ہیں۔۔۔۔

3 November ki emergency par itimad main na leney ki baten karne waly jhotay hin – Chaudhry Shujaat – 3 نومبر کی ایمرجنسی پر اعتماد میں نہ لینے کی باتیں کرنے والے جھوٹے مکار ہیں۔۔۔۔


غداری مقدمے میں سزا ہوئی تو معافی کی درخواست نہیں کروں گا، پرویز مشرف

غداری مقدمے میں سزا ہوئی تو معافی کی درخواست نہیں کروں گا، پرویز مشرف


اسلام آباد: سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام اقدامات ملک اور عوام کے مفاد میں کئے اور انہیں توقع نہیں تھی کہ غداری کا مقدمہ قائم کر دیا جائے گا تاہم اگر انہیں غداری مقدمے میں سزا ہوئی تو وہ معافی کی درخواست نہیں مانگے گے۔

ایکسپریس نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کسی ڈیل کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے یہ تاثر جائے کہ وہ ڈر کر ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے، تمام مقدمات میں انصاف چاہتا ہوں، معافی مانگنے کا عادی نہیں اگر سزا ہوئی تو حکومت سے معافی کی درخواست نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں جنرل کیانی نے ساتھ نہ دیا تو مایوسی ہوئی، یہ نہیں پتہ کہ جنرل کیانی نے کیس میں حلف نامہ جمع کیوں نہیں کرایا جب کہ وہ تمام معاملات میں حصہ دار تھے۔

سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ 12 اکتوبر کو وہ ہوائی جہاز میں تھے اور ایکشن زمین پر ہوا جبکہ ایک حاضر سروس آرمی چیف کو ہدایات دی جارہی تھیں کہ اپنی سرزمین کے بجائے بھارت لینڈ کیا جائے، اگر کیس کھلا تو پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف 12 اکتوبر کیس سے بچنا چاہتے ہیں اور انہیں خوف ہے کہ کہیں اس کیس میں انہیں نہ جکڑ لیا جائے تاہم دلچسپ بات ہے کہ نواز شریف 12 اکتوبر کیس سے دور رہنا چاہتے ہیں اور پیپلزپارٹی اس مقدمے میں دلچسپی رکھتی ہے، دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں لگی ہیں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ نوازشریف کو جیل میں سہولیات نہیں دی گئیں، اٹک قلعہ میں نواز شریف کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

تین نومبر کی ایمرجنسی کے حوالے سے سابق صدر کا کہنا تھا کہ یہ کسی فرد واحد کا فیصلہ نہیں تھا، ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے خط لکھا، جس کی منظوری کابینہ نے دی جبکہ اس پر پارلیمنٹ میں قرارداد بھی منظور کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے خط میں لکھا تھا کہ عدالتیں دہشتگردوں کو رہا کر رہی ہیں جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے جبکہ ملک میں دہشتگردی بڑھ رہی تھی اور جمہوری عمل بھی داؤ پر لگ چکا ہے، حکومتی معاملات میں عدالتی مداخلت کے باعث معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا تھا، ان حالات کے پیش نظر ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی۔

27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بلا کہنے کے سوال پر پرویز مشرف نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کس بلے نے دودھ پیا اس کا سب کو علم ہے، ممکن ہے کہ یہ بیان دیکر حکومت اور فوج کو لڑانے کی کوشش کی گئی ہو۔

سابق صدر پرویز مشرف نے ایک سوال پر کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی وجہ سے ملک سے باہر نہیں گیا، افتخار چوہدری سینئر ترین جج تھے جس کی بنا پر انہیں چیف جسٹس آف پاکستان لگایا گیا تاہم پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں جو عدلیہ اور حکومت کا تصادم دیکھنے میں آیا وہی کچھ ان کے دور میں ہورہا تھا۔ پرویز مشرف نے مزید کہا کہ اگست 2008 میں ہی صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا، بے مقصد صدر بن کر ہر گز رہنا نہیں چاہتا تھا جو ایوان صدر میں صرف بیٹھا رہے۔

پرویز مشرف نے کہا کہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے دوبارہ وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا،ملک و قوم کی خراب صورتحال کو دیکھتے ہوئے سیاست میں آیا اور سیاسی جماعت بنائی جبکہ میرے اکاؤنٹس منجمند اور پراپرٹی سیل تھی جس کے لئے عدالتوں کا سامنا بھی کیا اور کامیاب ہوا۔

پرویز مشرف نے کہا کہ اگر انہیں پرکھنا ہے تو ان کی کارکرگی پر پرکھا جائے اور عدالت سے انصاف چاہتے ہیں اور کچھ نہیں، انہوں نے کہا کہ والدہ کے لئے کسی اور سے بھیک مانگ لوں گا لیکن موجودہ حکومت سے ہر گز نہیں۔

Pervez Musharraf interview on Express News with Moeed Pirzada – on 29th December 2013

Pervez Musharraf interview on Express News with Moeed Pirzada – on 29th December 2013


Pervez Musharraf interview on Express News with Moeed Pirzada – on 29th 
December 2013
Mere Mutabiq with Hassan Nisar میرے مطابق حسن نثار کے ساتھ - 29 Dec 2013

Mere Mutabiq with Hassan Nisar میرے مطابق حسن نثار کے ساتھ - 29 Dec 2013


Mere Mutabiq with Hassan Nisar میرے مطابق حسن نثار کے ساتھ - 29 Dec 2013

Mere Mutabiq with Sohail Waraich on Geo News -28 Dec 2013

Mere Mutabiq with Sohail Waraich on Geo News -28 Dec 2013

Mere Mutabiq with Sohail Waraich on Geo News -28 Dec 2013
Jinsi Taleem Ki Aar Mein Ghanaoni Sazish  جنسی تعلیم کی آڑ میں گھنائونی سازش by Ansar Abbasi 30 Dec 2013

Jinsi Taleem Ki Aar Mein Ghanaoni Sazish جنسی تعلیم کی آڑ میں گھنائونی سازش by Ansar Abbasi 30 Dec 2013


Jinsi Taleem Ki Aar Mein Ghanaoni Sazish  جنسی تعلیم کی آڑ میں گھنائونی سازش by Ansar Abbasi 30 Dec 2013


Mere Mutabiq with Hassan Nisar  on Geo TV - 21 Dec 2013

Mere Mutabiq with Hassan Nisar on Geo TV - 21 Dec 2013

 

 Mere Mutabiq with Hassan Nisar on Geo TV - 21 Dec 2013
2014 will be make-or-break year for Pakistan: Altaf حکمران غلطیاں نہ کریں، سال 2014 ملک کے لئے بنائو یا توڑو کا سال ہوسکتا ہے۔۔

2014 will be make-or-break year for Pakistan: Altaf حکمران غلطیاں نہ کریں، سال 2014 ملک کے لئے بنائو یا توڑو کا سال ہوسکتا ہے۔۔

2014 will be make-or-break year for Pakistan: Altaf حکمران غلطیاں نہ کریں، سال 2014 ملک کے لئے بنائو یا توڑو کا سال ہوسکتا ہے۔۔















MQM chief Altaf Hussain has said that 2014 could be a year of make or break for Pakistan.

LONDON (Dunya News) – Mutahida Qaumi Movement (MQM) chief Altaf Hussain, in a statement issued from London on Sunday night, has said that 2014 could be a year of make or break for Pakistan.

Altaf Hussain also warned the rulers not to repeat the mistakes committed in the past take right decisions and act upon those without any delay to move the country towards safety.

He said that delay in implementation of key decisions could prove harmful for the country. Source Dunya News



Hukumran aisay bhi hotay hin - حکمراں ایسے بھی ہوتےہیں! چینی صدر نے عوام کی طرح قطار میں لگ کر برگر خریدا

Hukumran aisay bhi hotay hin - حکمراں ایسے بھی ہوتےہیں! چینی صدر نے عوام کی طرح قطار میں لگ کر برگر خریدا

ہمارے ملک میں تو سیاستدانوں کا سمندر ہے۔۔لیکن لیڈر ایک بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔
اللہ تعالی نہ جانے ہمیں بھی ایسا لیڈر نصیب کرے۔۔۔۔ چین کے صدر کی حرکت کو دیکھیں۔۔۔۔۔
https://www.facebook.com/MeriAwazTV

















ژی جن پنگ نے عام شہری کی طرح برگر کی خریداری کیلیے اپنی جیب سے ادائیگی کی۔ فوٹو: فائل

بیجنگ: چین کے صدر نے ایک عام شہری کی حیثیت میں بیجنگ کے ایک مقامی ریسٹورنٹ پر جا کر قطار میں لگ کر برگر خریدا۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ژی جن پنگ(Xi Jinping) گزشتہ روز عام شہری کی طرح مشہور کنگ فینگ سٹمیڈ بن شاپ پہنچے اور برگر کی خریداری کیلیے اپنی جیب سے ادائیگی کی۔ ژی کے اس اقدام کی وڈیوز اور تصاویر فوراً ہی انٹرنیٹ پر عام کر دی گئیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں سے بعض نے ایک ایسے ملک میں جہاں رہنما بہت کم منظرعام پر آتے ہیں حیرت واستعجاب کے ساتھ اس خبر کا خیرمقدم کیا ہے۔
Daily Express
Mere Mutabiq with Hassan Nisar (Geo News)  -22 Dec 2013

Mere Mutabiq with Hassan Nisar (Geo News) -22 Dec 2013


Mere Mutabiq with Hassan Nisar (Geo News)  -22 Dec 2013

Qarza Scheme ki sharaet main narmi kar di gaye - وزیر اعظم نے قرضہ اسکیم کی شرائط مین نرمی کردی۔۔۔ ایک سے زائد افراد کی ضمانت بھی قبول ہوگی۔۔۔

Qarza Scheme ki sharaet main narmi kar di gaye - وزیر اعظم نے قرضہ اسکیم کی شرائط مین نرمی کردی۔۔۔ ایک سے زائد افراد کی ضمانت بھی قبول ہوگی۔۔۔

Qarza Scheme ki sharaet main narmi kar di gaye - وزیر اعظم نے قرضہ اسکیم کی شرائط مین نرمی کردی۔۔۔ ایک سے زائد افراد کی ضمانت بھی قبول ہوگی۔۔۔



PTI wants me to be killed by Taliban  - Bilawal تحریک انصاف بلاول ہاوس کی دیواریں گرانا چاہتی ہے تاکہ طالبان مجھے مار سکیں:بلاو ل

PTI wants me to be killed by Taliban - Bilawal تحریک انصاف بلاول ہاوس کی دیواریں گرانا چاہتی ہے تاکہ طالبان مجھے مار سکیں:بلاو ل

PTI wants me to be killed by Taliban  - Bilawal تحریک انصاف بلاول ہاوس کی دیواریں گرانا چاہتی ہے تاکہ طالبان مجھے مار سکیں:بلاو ل



Source
Pervaiz Musharraf's interviews with Dr Danish on his show Sawal Yeh Hai - 27 Dec 2013

Pervaiz Musharraf's interviews with Dr Danish on his show Sawal Yeh Hai - 27 Dec 2013





Pervaiz Musharraf's interviews with Dr Danish on his show Sawal Yeh Hai - 27 Dec 2013

Host- Dr. Danish.
Guest- Pervaiz Musharraf.
Topic- Chaudhary Iftikhar was when made cheif Justice then who was the back hand in recommending him as cheif justice.?
When Chaudhary Iftikhar met Azghar Khan , suddenly Chaudhary Iftikhar got into action than who sended Azghar Khan to met Chaudhary Iftikhar?
Watch all this only on Sawal Yeh Hai exclusively on ARY News.
Inside Story of Parliamentarians Assets – Makkarooon ki makarian to  dekho… mulk ke dushmanoon ko to dekhoo- پارلیٹنیرینز کی اثاثہ جات، جھوٹ اور فریب میں سب سے آگے۔۔۔

Inside Story of Parliamentarians Assets – Makkarooon ki makarian to dekho… mulk ke dushmanoon ko to dekhoo- پارلیٹنیرینز کی اثاثہ جات، جھوٹ اور فریب میں سب سے آگے۔۔۔



 Inside Story of Parliamentarians Assets – Makkarooon ki makarian to dekho… mulk ke dushmanoon ko to dekhoo- پارلیٹنیرینز کی اثاثہ جات، جھوٹ اور فریب میں سب سے آگے۔۔۔
Mir Shakeel gave 80 crores to Shahrukh khan to attend his daughter marriage بیٹے کی شادی میں بلانے کے لئے میر شکیل الرحمن نے شاہ رخ خان کو 80 کروڑ دے دیئے

Mir Shakeel gave 80 crores to Shahrukh khan to attend his daughter marriage بیٹے کی شادی میں بلانے کے لئے میر شکیل الرحمن نے شاہ رخ خان کو 80 کروڑ دے دیئے





Mir Shakeel gave 80 crores to Shahrukh khan to attend his daughter marriage بیٹے کی شادی میں بلانے کے لئے میر شکیل الرحمن نے شاہ رخ خان کو 80 کروڑ دے دیئے
 #Urdu Ghazal دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے ، ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنادے یہ ذوقِ وفا کا مجھے تیرا نہ بنا   دے، یہ ترا ستم ہی تجھے میرا نہ بنادے

#Urdu Ghazal دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے ، ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنادے یہ ذوقِ وفا کا مجھے تیرا نہ بنا دے، یہ ترا ستم ہی تجھے میرا نہ بنادے


غزل

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے
ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنادے

یہ ذوقِ وفا کا مجھے تیرا نہ بنادے
یہ ترا ستم ہی تجھے میرا نہ بنادے

اے دیکھنے والو! مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنادے

آزاد طلب اک ذرا ہشیار ہی رہنا
مجبور کہیں عشق کی دنیا نہ بنادے

میرے لبِ خاموش کو ہے پاس وفا کا
چاہے تو ہر اک لفظ کو افسانہ بنادے

آغاز کی دنیا ہے نہ انجام کی دنیا
اے شمع حقیقی مجھے پروانہ بنادے

بیتابِ پرستش ہے جبیں پُرز عقیدت
سجدوں سے کہیں نقشِ کفِ پا نہ بنادے

میں دل سے پپیہے تیری آواز کے صدقے
دو لفظوں میں مرا بھی اک افسانہ بنادے

او کافرِ الفت یہ تری نیم نگاہی
دنیا کو تماشا ہی تماشا نہ بنادے

کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرا عالم ہی جُدا ہے
وہ کیا کہے جس کو کوئی دیوانہ بنادے

وہ کفر مجھے دے ترے ایمان کے صدقے
جو کعبہ کو بھی حاصل بت خانہ بنادے

یہ اس کا کرم ہے کہ مرے ہوش ہیں باقی
وہ چاہے تو اک آن میں دیوانہ بنادے

اے جذبِ دلی اشکوں میں کیوں رنگ نہیں ہے
افسانہ کے لفظوں کو بھی افسانہ بنادے

ساقی نگہ مست سے سو داغ دیئے جا
اس قلب کو پیمانہ بہ پیمانہ بنادے

ان آنکھوں میں مستی بھی ہے، جادو بھی، ادا بھی
ان آنکھوں سے کل دہر کو دیوانہ بنادے

میں ڈھونڈ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے
جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنادے

بہزاد ہر اک گام پہ اک سجدہء مستی
ہر ذرّے کو سنگِ درِ جانانہ بنادے​

(بہزاد لکھنوی)


A baeutiful #Urdu Ghazal of Behzad Lakhnawi دل ہے پریشاں، آنکھ ہے پُرنم، ہائے محبت ہائے یہ عالم  - دل کو بھی ہے غم، آنکھ کو بھی غم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

A baeutiful #Urdu Ghazal of Behzad Lakhnawi دل ہے پریشاں، آنکھ ہے پُرنم، ہائے محبت ہائے یہ عالم - دل کو بھی ہے غم، آنکھ کو بھی غم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

غزل
بہزاد لکھنوی
دل ہے پریشاں، آنکھ ہے پُرنم، ہائے محبت ہائے یہ عالم
دل کو بھی ہے غم، آنکھ کو بھی غم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

راز ہم اپنا کیسے چھپائیں، کس طرح سے منہ ان کو دکھائیں
اشک چلے ہی آتے ہیں پیہم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

آج تو وہ بھی بھرتے ہیں آہیں، ڈھونڈ رہے ہیں ضبط کی راہیں
بکھرے ہوئے ہیں گیسوئے پُرخم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

میرے لئے ہاں ہجر میں تیرے اشک ہیں یوں دامن پر میرے
جیسے کہ ہو پھولوں پر شبنم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

اگلا سا اب وہ جوش نہیں ہے، جوش نہیں ہے، ہوش نہیں ہے
درد ہے دل میں لیکن کم کم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

لطف افزا ہیں زخم کی ٹیسیں، کون اب برتے دہر کی ریتیں
کون لگائے زخم پہ مرہم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

یوں مرا دل سینے میں تپاں ہے، ان کیلئے ہر دم گریاں ہے
جیسے کوئی کرتا ہوں ماتم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

ہر زحمت میں راحت بھی ہے، ہر راحت میں زحمت بھی ہے
دل کو سکوں ملتا ہے پسِ غم، ہائے محبت ہائے یہ عالم

مٹ جائیں بہزاد تو بہتر لطف افزا ہے عشق کا نشتر
ہے یہ تمنّا درد نہ ہو کم، ہائے محبت ہائے یہ عالم​
Discussed about Mir Shakeel ur Rehman. Disscused 99% of employes working in newspaper agencies are not perminent but are on contract basis. - Khara Sach 23 Dec 2013

Discussed about Mir Shakeel ur Rehman. Disscused 99% of employes working in newspaper agencies are not perminent but are on contract basis. - Khara Sach 23 Dec 2013



 Host- Mubashir Lucman.
Guest- Rana Azim
Shafi Uddin Ashraf.
Arif Hameed Bhatti.
Topic- Discussed about Mir Shakeel ur Rehman.
Disscused 99% of employes working in newspaper agencies are not perminent but are on contract basis.
Income tax is deducted from the salaries of their employes.
Watch all this only on Khara Sach exclusively on ARY News.
Urdu Ghazal - بیہوش ہوں کہ ہوش میں اب آرہا ہوں میں -   ہر چیز میں جہاں کی، تمہیں پا رہا ہوں میں

Urdu Ghazal - بیہوش ہوں کہ ہوش میں اب آرہا ہوں میں - ہر چیز میں جہاں کی، تمہیں پا رہا ہوں میں


غزل
(بہزاد لکھنوی)
بیہوش ہوں کہ ہوش میں اب آرہا ہوں میں
ہر چیز میں جہاں کی، تمہیں پا رہا ہوں میں

پروردگار اب مری توبہ کی خیر ہو
کالی گھٹا کو دیکھ کے تھرّا رہا ہوں میں

رکھ کر کسی کے پائے حسیں پر جبینِ عجز
دل میں عبودیت کی تڑپ پا رہا ہوں میں

میری فضائے ہوش پہ چھا جا جمالِ دوست
اپنے کو آج ہوش میں کچھ پا رہا ہوں میں

اُن کی نظر کا آہ ابھی تک خیال ہے
اُن کی نظر کے واسطے گھبرا رہا ہوں میں

ہے کیفِ دردِ دوست فقط میرے واسطے
ہر چیز کو جہان کی ٹھکرا رہا ہوں میں

اس کی خبر نہیں ہے کہ منزل ہے کس طرف
احساس اس قدر ہے کہ ہاں جا رہا ہوں میں

میں نے تو ہائے مشقِ تصوّر بھی چھوڑ دی
اپنے سے کیوں قریب تجھے پا رہا ہوں میں

سمجھا رہا ہے کوئی یہ مجھ کو خبر نہیں
سمجھا رہے ہیں آپ کہ سمجھا رہا ہوں میں

ہمّت بڑھا ذرا مری اے ذوقِ جستجو
منزل سے بےنیاز چلا جا رہا ہوں میں

دامن کو کررہا ہوں جو بہزاد چاک چاک
یوں گتھّیوں کو عشق کی سلجھا رہا ہوں میں
تم کیفیت نہ ڈھونڈو میرے دل و جگر  میں  -  نظروں سے پوچھ لو نا کیا ہے مری نظر میں

تم کیفیت نہ ڈھونڈو میرے دل و جگر میں - نظروں سے پوچھ لو نا کیا ہے مری نظر میں

غزل

(بہزاد لکھنوی)
تم کیفیت نہ ڈھونڈو میرے دل و جگر میں
نظروں سے پوچھ لو نا کیا ہے مری نظر میں

کیا ہیں نئی ادائیں اس چشمِ فتنہ گر میں
رعنائیاں ہیں لاکھوں خود عشق کی نظر میں



دو اشک میں گرا کر خاموش ہوگیا ہوں
افسانہ کہہ رہا ہوں الفاظِ مختصر میں

ان کا کرم تو دیکھو ان کی عطا تودیکھو
مجھ میں سما گئے ہیں آکر مری نظر میں

ہم نے سکون کھویا، ہم نے سکون پایا
سو انقلاب آئے اک جنبشِ نظر میں



اللہ میرے دل میں ہلچل سی مچ رہی ہے
یہ کیا لکھا ہوا ہے روئے پیامبر میں

میری ہی طرح اس کو مجبورِ قلت سمجھو
جو بھی کہ بیٹھ جائےگھبرا کے رہگذر میں

تاروں کو ہے شکایت، ہے ماہ کو بھی شکوہ
شب کا نہ ذکر آیا افسانہ سحر میں

تم خود مجھے بتادو اب اس سے کیا میں پوچھوں 
تم تو نہ جانے کیا ہو بہزاد کی نظر میں​
Mianmar ne dikhaya dunya ko anghota - Musalmanoon ko shehriat dene se hukomat ka inkar - میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کردیا

Mianmar ne dikhaya dunya ko anghota - Musalmanoon ko shehriat dene se hukomat ka inkar - میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کردیا

Mianmar ne dikhaya dunya ko anghota - Musalmanoon ko shehriat dene se hukomat ka inkar - میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کردیا


Girls Kidnapped for Forced Marriage Suffer Rising Crime in India

Girls Kidnapped for Forced Marriage Suffer Rising Crime in India

Rupsona’s kidnappers struck at dusk, when most children in her village in
eastern India were outside playing and their parents were resting after tending crops all day. The 14-year-old student had just finished geography class and was walking home along a road lined with rice paddies when she felt a blade at her throat.
The man holding the eight-inch knife and his two accomplices were clear: If Rupsona didn’t quietly climb into a nearby car, they would slit her throat. When the door closed, she was beaten,
Roti, Kapra and Superman – by FahdHusain - ExpressTribune

Roti, Kapra and Superman – by FahdHusain - ExpressTribune

Not many political leaders can wear a Superman T-shirt in full glare of the cameras and escape unscathed. So, when Bilawal Bhutto Zardari did just that, he exposed to us a new adventurous side of his personality. Compared with the dull, drab, grey personas of PPP feudals, Bilawal’s sartorial risk has had the desired impact.



Yes, it will indeed take a Man of Steel to salvage the PPP. Savaged by its own men of clay, the party flogged, whipped and lashed its own back to a bloody pulp. Lorded over by extraordinarily ordinary men, the
Government’s deadly passion - حکومت کا جان لیوا شوق

Government’s deadly passion - حکومت کا جان لیوا شوق

Government’s deadly passion - حکومت کا جان لیوا شوق

حالانکہ چھ ماہ بھی گذر چکے ہیں۔ وفاق بظاہر کنٹرول میں ہے۔ نیا سپہ سالار بھی خوشگوار ٹائپ لگتا ہے۔ نئےچیف جسٹس بھی کام سے کام رکھنے والے ٹپائی دیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی جانب سے بھی کسی قسم کا فوری خطرہ نہیں۔ سب سے بڑے سیاسی صوبے ( پنجاب ) پر بھی پہلے کی طرح مکمل گرفت نظر آتی ہے۔ سب سے بڑے جغرافیائی صوبے ( بلوچستان ) میں قائم مخلوط منمناتی حکومت بھی مسلسل شریف النفسی کا صبر آزما مظاہرہ کررہی ہے۔

وزیرِ اعظم کو موقع ملے تو اپنے برادرِ خورد سے بھی گاہے ماہے یہ شکوہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اسلام آباد سے زیادہ لاہور پر توجہ دیں اور لاہور سے زیادہ بیرونِ لاہور کے مسائل کو خاطر میں لائیں۔چندی گڑھ ، دلی ، انقرہ اور لندن جاتے رہنا بھی ٹھیک ہے لیکن اٹک، گوجرانوالہ اور راجن پور وغیرہ کی ووٹ فیکٹریوں کے کبھی کبھار دورے میں بھی کوئی حرج نہیں۔"

سندھ کی حکومت بھی فی الحال کوئی بڑا چیلنج بننے کی پوزیشن میں نہیں اور تب سے اب تک کونے میں بیٹھی دہی کھا رہی ہے۔ عمران خان کو دل پشوری کے لئے خیبر پختون خواہ کا کھلونا ہاتھ آگیا ہے جسے وہ ایک متجسس بچے کی طرح مسلسل الٹ پلٹ کے توڑ مروڑ کے چیک کررہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کو بنگلہ دیش نے مصروف کررکھا ہے۔


اس تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھ ماہ گذرنے کے باوجود سرا ہاتھ آنا تو دور کی بات گڈ گورننس کے الجھے دھاگوں کے گولے کا حجم تک حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ اگرچہ ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ پورا ہے مگر کارِ سرکار کے ٹائر روزمرہ کے کیچڑ میں پھنسے پوری طاقت سے گھوم رہے ہیں۔ اور ڈرائیور سمجھ رہا ہے کہ گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمان پچھلے چھ ماہ سے کام کی تلاش میں ہیں۔ بھارت کی توجہ اگلے سال بھر انتخابات اور انتخابی نتائج کے ممکنہ نتائج پر مرکوز رہے گی۔ امریکہ بھی اگلا پورا برس پاکستان کو افغانستان کی انخلائی عینک سے دیکھنے پر مجبور رہے گا۔

اس قدر سازگار داخلی و خارجی حالات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت اپنی توجہ حکمرانی پر مرکوز کرے اور عمران خان کو پولیو مہم کا قومی رابطہ کار بنادے۔ مولانا سمیع الحق سمیت جو اصحاب بھی طالبان سے مذاکرات شروع نہ کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں انہیں طالبان کو مذا کرات کی میز پر لانے کا کام سونپ دے۔


جنرل شریف سے درخواست کرے کہ اگلے سال چھ مہینے تک بلوچ منحرفین پر ہاتھ ہولا رکھیں تاکہ بلوچستان حکومت کی کچھ تو عزت رہ جائے۔

اب جب کہ مرکز میں اہم تبدیلییوں کے بعد عمومی گمان ہے کہ وزیرِ اعظم کے احساس ِ عدم تحفظ میں بھی شائد کمی ہوچکی ہے تو یہ توقع بے جا نہ ہوگی کہ وزیرِ اعظم کسی روحانی پیشوا کی طرح اپنے پارلیمانی مریدوں کو کبھی کبھار درشن دینے کے بجائے قومی اسمبلی میں دو تین ماہ میں ایک مرتبہ قدم رنجہ فرماتے رہیں تاکہ یہ تاثر مسلسل نہ رہے کہ وہ پارلیمنٹ کو کمی کمینوں کی کمین گاہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اور ایسوں ویسوں کو صرف چوہدری نثار علی جیسوں کی مدد سے ہی سیدھا رکھا جاسکتا ہے۔

وزیرِ اعظم کو موقع ملے تو اپنے برادرِ خورد سے بھی گاہے ماہے یہ شکوہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اسلام آباد سے زیادہ لاہور پر توجہ دیں اور لاہور سے زیادہ بیرونِ لاہور کے مسائل کو خاطر میں لائیں۔ چندی گڑھ، دلی، انقرہ اور لندن جاتے رہنا بھی ٹھیک ہے لیکن اٹک، گوجرانوالہ اور راجن پور وغیرہ کی ووٹ فیکٹریوں کے کبھی کبھار دورے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

مگر ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ حکومت بڑے، اہم اور بنیادی داخلی و خارجی معاملات کے سینگوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے جھاڑ جھنکار اور راستے کے کانٹوں سے الجھنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے اور ہر شے کو مٹھی میں لینے کا نوے کی دہائی کا جان لیوا شوق آج بھی جان نہیں چھوڑ رہا۔ ایسے کیوں لگ رہا ہے کہ شیر کا سانڈھ پر بس نہیں چل رہا تو وہ اپنی شیرانگی دکھانے کے لئے مرغوں اور بکروں کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔

گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے


اس تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھ ماہ گذرنے کے باوجود سرا ہاتھ آنا تو دور کی بات گڈ گورننس کے الجھے دھاگوں کے گولے کا حجم تک حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ اگرچہ ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ پورا ہے مگر کارِ سرکار کے ٹائر روزمرہ کے کیچڑ میں پھنسے پوری طاقت سے گھوم رہے ہیں۔ اور ڈرائیور سمجھ رہا ہے کہ گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے۔

جیسے اس وقت ’شریف۔ نثار حکومت‘ کی پوری توجہ نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی) کے چیرمین طارق ملک کے تعاقب یا پیمرا (پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) کے سربراہ رشید احمد کی چھٹی یا اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو طاہر محمود کی شکل گم کرانے کی سرتوڑ کوششوں پر ہے۔ لیکن مذکورہ تینوں افسر بھی عدلیہ سے اپنی برطرفیوں کے خلاف سٹے آرڈر حاصل کرکے شریف نثار حکومت کی ناک پر مسلسل منڈلاتی مکھی بن چکے ہیں۔

وہ تو شکر ہوا کہ اعزاز چوہدری کو عین آخری وقت میں فارن سیکرٹری بنا دیا گیا ورنہ وہ بھی اپنی سنیارٹی کا کیس پکڑے درِ انصاف کھٹکھٹانے کے لئے پرتول رہے تھے۔ جبکہ پنجاب پولیس کے اعلی افسران نے محکمے میں مسلسل غیر محکمہ جاتی مداخلت کے خلاف برملا اجتماعی تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ کہیں یہ پولیس والے بھی عدلِ جیلانی کی زنجیر نہ ہلا بیٹھیں۔ اور تو اور بینک تک کہہ رہے کہ بے روزگار نوجوانوں کے لئے سو ارب کی شریف قرضہ سکیم سر آنکھوں پر لیکن واپسی کی گارنٹی آپ دیں تو ہم قرضہ جاری کردیں یا پھر قرضہ فارم پر حلوائی کی دوکان اور دادا جی کی فاتحہ ہی لکھ دیں۔

اس تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھ ماہ گذرنے کے باوجود سرا ہاتھ آنا تو دور کی بات گڈ گورننس کے الجھے دھاگوں کے گولے کا حجم تک حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ اگرچہ ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ پورا ہے مگر کارِ سرکار کے ٹائر روزمرہ کے کیچڑ میں پھنسے پوری طاقت سے گھوم رہے ہیں۔ اور ڈرائیور سمجھ رہا ہے کہ گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے۔
Best #UrduPoetry دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ . جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ

Best #UrduPoetry دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ . جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ







Best #UrduPoetry دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ۔ جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ

غزل

دوست یا دشمنِ جاں کُچھ بھی تم اب بن جاؤ
جینے مرنے کا مِرے ، اِک تو سبب بن جاؤ

ہو مثالوں میں نہ جو حُسنِ عجب بن جاؤ
کِس نے تم سے یہ کہا تھا کہ غضب بن جاؤ

آ بسو دل کی طرح گھر میں بھی اے خوش اِلحان
زندگی بھر کو مِری سازِ طرب بن جاؤ

رشک قسمت پہ مِری سارے زمانے کو رہے
ہمسفرتم جو لِئے اپنے یہ چھب بن جاؤ

میں نے چاہا تھا سرِصُبْحِ جوانی بھی یہی
تم ہی سانسوں کی مہک، دل کی طلب بن جاؤ

کچھ تو احساس چَھٹے دل سے اندھیروں کا مِرے
زیستِ تاریک کو اِک شمعِ شب بن جاؤ

دل میں رکھتا ہُوں محبّت کا خزانہ جاناں
چھوڑکرسارا جہاں میری ہی اب بن جاؤ

ذات قربت سے ہمیشہ ہی منوّر چاہوں 
کب کہا اُس سے خلش رونقِ شب بن جاؤ 

شفیق خلش​