حبیب جالد مشہور زمانہ شاعری : یہ وزیرانِ کرام
یہ وزیرانِ کرام کوئی ممنونِ فرنگی، کوئی ڈالر کا غلام دھڑکنیں محکوم ان ک…
یہ وزیرانِ کرام کوئی ممنونِ فرنگی، کوئی ڈالر کا غلام دھڑکنیں محکوم ان ک…
یہ سوچ کر نہ مائلِ فریاد ہم ہوئے آباد کب ہوئے تے کہ برباد ہم ہوئے ہوتا…
اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں …
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم …
حیب جالب : اس دیس کا رنگ انوکھا تھا اس دیس کی بات نرالی تھی اس دیس کا …
انقلابی شاعرحبیب جالب کی نظمیں،غزلیں : بندے کو خدا کیا لکھنا ظلمت کو ضی…