Google+ page


نہ روکو مجھ کو الفت میں پھڑکنے دو
جو جملے کس رہے ہیں ان کو بَکنے دو

میں کانٹوں میں ہوں اٹکا تو اٹکنے دو
نہ توڑو مجھ شگوفے کو چٹکنے دو

مجھے دارِ محبت پر لٹکنے دو
مجھے شہرِ تمنا میں بھٹکنے دو

بوقتِ وصل اِک ٹک ان کو تکنے دو
بوقتِ فرقت ان کے غم میں تھکنے دو


مسرت کی ہے یہ شب یا شبِ غم ہے
میرے رخسار پر شبنم ٹپکنے دو

جو ابرِ زلف میں برقِ تجلی ہے
کڑکتی ہے یہ بجلی تو کڑکنے دو

خمِ خالی کو بھرتے جاؤ اے ساقی!
چھلکتا ہے اگر کچھ تو چھلکنے دو

محبت بانٹنے والوں کو خوشیاں دو
خوشی سے ان کے چہروں کو دمکنے دو

نہ روکو ، رک گیا تو مر ہی جائے گا
اسامہ سرسری کا دل دھڑکنے دو

اسامہ انصاری

Post a Comment

Previous Post Next Post