Google+ page



اب وہ طوفان ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے تیرے بعد خلاؤں جیسا

کاش دنیا میرے احساس کو واپس کر دے
خاموشی کا وہی انداز صداؤں جیسا

پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا
اس کا اندازِ تغافل تھا خداؤں جیسا

کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساسِ معال
پھول کھل کر بھی لگا زرد خزاؤں جیسا

کیا قیامت ہے کہ دنیا اسے سردار کہے
جس کا اندازِ سخن بھی ہو گداؤں جیسا

پھر تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر
پھر میرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا

بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسن
اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

محسن نقوی

Post a Comment

Previous Post Next Post