Google+ page

ملاقاتیں ہماری بے ارادہ کیوں نہیں ہوتی
محبت کی گذر گاہیں کشادہ کیوں نہیں ہوتی

ہمارے درمیاں یہ اجنبیت کا دھواں کیوں ہے
ہماری چاہتیں حد سے زیادہ کیوں نہیں ہوتی

میرے جذبات کی خوشبو اترتی کیوں نہیں تجھ میں
ترے دل کی سبھی راہیں کشادہ کیوں نہیں ہوتی

خوشی کی چند بوندیں جسم کو گیلا تو کر دیتی ہیں
میسر راتیں ہیں لیکن یہ زیادہ کیوں نہیں ہوتی

تیرے نزدیک رہ کر بھی یہ دوری کا گماں کیسا
تیری بانہیں مری خاطر کشادہ کیوں نہیں ہوتی

بڑے نازو ادا اکثر یہ دکھلاتی ہے رستوں میں
.یہ حسیں لڑکیاں بھی آخر سادہ کیوں نہیں ہوتی

شاعر نا معلوم




Post a Comment

Previous Post Next Post