ایک غیر مغروف سروے کے مطابق عمران خان کی مقبولیت میں کمی اور نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جیو رپورٹ
Nawaz Sharrif distributed 20 million rupees amongst 20 prominent journalists for speaking his tune – sources with evidence watch this video
EBM to actively support 16th MAP Convention as Founding Partner
Pakistan’s leading biscuit manufacturing company, English Biscuit Manufacturers (Pvt.) Limited (EBM), will be deeply involved in Management Association of Pakistan’s 16th Convention to take place next week, in its role as a Founding Partner of this flagship event that brings together national and international experts on one platform. Saadia Naveed, Deputy Managing Director of English Biscuit Manufacturers (Pvt.) Ltd. (EBM) is also the President of the Management Association of Pakistan (MAP), since June 2013, and she is the first ever female President of this prestigious professional body.
The theme of the Convention this year is ‘Re-think Management’, and the event will reinforce the need of innovative management practices and re-thinking on contemporary management styles for the future success of businesses. Throughout history, only those companies which have been continuously adapting their management practices to the rapidly changing business environment have been able to achieve meaningful growth.
EBM is a classic case study of how good management practices have driven rapid growth, as its sales have gone up from Rs. 3 billion to Rs. 23 billion in the past 10 years. Following what is known as a ‘sustainable management’ approach, the company has synthesized sustainability concepts with time-tested management practices. This approach has generated the capability in the company of keeping a system running indefinitely without depleting resources, while maintaining economic viability, and nourishing the needs of the present and future generations.
Speaking about EBM’s management style, Dr. Zeelaf, Chairperson, Executive Management Board, said: “What fuels long-term business success is not just operational excellence or technology breakthroughs, or even new business models, although all these are important. The critical difference is made by management innovation—adopting new ways of mobilizing talent, allocating resources, and formulating strategies. Corporate sustainability has created a significant competitive advantage for companies that have implemented it. At EBM, it is part of our management’s DNA and corporate culture. We strongly believe in doing the right thing that benefits the environment and society, and makes good business sense.”
Management Association of Pakistan is a 50 year old body created to facilitate the business community as their think tank of ideas to implement the best management practices for generating higher productivity and growth. Each year this convention gathers businessmen from across the country and even international speakers who are thought leaders willing to change mindsets. The first day of convention is for presentations and panel discussions whereas the second day is dedicated to two workshops by Tony Buzan, the Inventor of Mind Maps and Lucy Cornell, the Chief Inspiration Officer at Voice Coach. PR
Butts are ready to fight with IK - بٹ برادری کا عمران خان کے خلاف عدالت جانے فیصلہ، ہتک عزت کا مقدمہ کریں
شہباز، زارداری کا ڈرئیور شریف برادران جن کو سڑکوں پر گھسیٹنا چاہتے تھے ان کے ڈرائیور بننے پر مجبور ہوچکے ہیں
سپریم کور کی عمارت سپریم کورٹ: یہاں پاکستان کی عوام کو انصاف تو نہیں مل رہا مگر ایک حجام کو روزگار تو مل گیا ہے،عمارت کمرشل ہے
Shocking News! Nawaz Sharif was about to repeat 12th October history by removeing Raheel Sharif few days ago
Govt of tyranny and humiliation - ظلم اور جبر سے حکومتیں نہیں چلائی جاسکتیں۔ حکومت ہوش کے ناخن لے۔ الطاف حسین
Hokomat na choren, badshahat chor den - by Asadullah Ghalib - حکومت نہ چھوڑیں، بادشاہت تو چھوڑ دیں
یہ اتفاق رائے تو ہو گیا کہ وزیر اعظم کو مستعفی نہیں ہونا چاہئے۔قومی اسمبلی نے کہہ دیا ، سینیٹ نے کہہ دیا، تمام آئین پسند اور جمہوریت پسند سیاسی ا ور مذہبی جماعتوںنے کہہ دیا اور اب اس پر اصرار کر نے کے لئے جوابی دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، ن لیگ کے جلوس شہر شہر نکل رہے ہیں، یہ ان کا بھی آئینی حق ہے جیسے قادری ا ور عمران کا حق جتلایا جاتا ہے۔امریکہ نے بھی کہہ دیا کہ نواز شریف منتخب وزیر اعظم ہیں ، انہیں دھونس سے نہیں نکالا جا سکتا اور تو اور بھارت میں بھی اس حق کے لئے آواز اٹھی۔
چلئے استعفی نہ دیں، بالکل نہ دیں، نہ وزیر اعظم نواز شریف مستعفی ہوں، نہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف مستعفی ہوں، کئی لوگ تو کہہ دیتے ہیں کہ شہباز شریف کو تو چلے جانا چاہئے۔ مگر اصول کی بات ہے کہ انہیں ہر گز استعفی نہیں دینا چاہئے، ملک میں عدالتیںموجود ہیں، فیصلہ کر دیںجو بھی قانون اور آئین کے مطابق ہو، الزام ثابت ہو جائے تو پھر وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ الزا م ثابت ہو گیا تو خود استعفی دوں گا ، ایک لمحے کی تاخیر نہیںکروں گا مگر حضرت عمر فاروق ؓ خلیفہ دوم اپنی صفائی کے لئے بطور خلیفہ وقت ،عدالت میں پیش ہوئے، ان پر کسی نے شرط عائد نہیں کی تھی کہ پہلے وہ مستعفی ہوں یا چھٹی پرجائیں ، پھر ان کے مقدمے کی سماعت ہو، تاریخ میں یہ اعتراض آج تک کسی نے نہیں کیا تو شہبازشریف کیوں اور کس لئے ، کس روائت کے تحت مستعفی ہوں اور وہ بھی محض ایک الزام پر جسے بار بار دہرایا جا رہا ہے لیکن بار بار دہرانے سے وہ حقیقت اور صداقت میں تبدیل نہیں ہو سکتا، عدالتی فیصلے کی جگہ نہیں لے سکتا۔اس لئے شہباز شریف کے استعفے کی نوبت نہیں آنی چاہئے، اگر انہوںنے استعفی دیا تو میں اسے چھین کر پھاڑ دوں گا۔ابھی کل کی بات ہے دنیا کی طاقتور تریں جمہوریت کاصدر بل کلنٹن مواخذے کا شکار ہوا، اس نے منصب صدارت پر فائز رہتے ہوئے مواخذے کی تحریک کو ناکام بنایا، امریکہ میں ایک ا ٓواز نہیں اٹھی کہ مواخذے کی کاروائی سے پہلے کلنٹن مستعفی ہوں یا چھٹی پر چلے جائیں ، یہ تو ہماری سفلی خواہشات ہیں ، اور ان خواہشات کی پیروی کی رسم ایک بارچل نکلی تو پھر کوئی شخص کسی منصب پر فائز نہیں رہ سکے گا، ہر دفتر کے اندر چند قادری یا چند عمران اپنے ساتھی کارکن یا اپنے افسر کے خلاف دھونس جمائیں گے اورا سے گھر جانے پر مجبور کر دیں گے، میںپھر دہراتا ہوں کہ یہ عمل چل نکلا تو پھر ریاست کا ڈھانچہ بکھر کر رہ جائے گا۔کوئی ایٹم بم بھی اس شکست وریخت کو نہیں روک سکے گا۔
یہ بات تو میری حد تک طے ہو گئی بلکہ پوری قوم کی حد تک طے ہو گئی تو پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے جمہوری منتخب حکمرانوںنے جس حد تک غیر جمہوری طرز عمل اختیار کر رکھا ہے بلکہ چار قدم آگے بڑھ کر بادشاہت اور شہنشاہیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے،یہ رویہ انہیں ہر گز زیب نہیں دیتا، اسلامی اصولوں کے تحت بھی اور آئین اور جمہوری اصولوں کی رو سے بھی انہیں بادشاہت کا حق کسی نے نہیں دیا،اس لئے وہ براہ کرم جمہوریت اور آئین پر رحم فرمائیں اور اپنی شاہانہ روش ترک کر دیں،انہیں تو بادشاہ کہلوانے کا حق اس قدر بھی نہیں ،جتنا آخری مغلیہ تاجدار بہادر شاہ ظفر کو حاصل تھا۔ شہنشاہیت کے خاتمے کے لئے پہلے قدم کے طور پر مریم صفدر کو ایک سو ارب کے قومی اثاثے کی بندر بانٹ کے منصب سے الگ کیا جائے، دوسرے قدم کے طور پر حمزہ شہباز کو پنجاب کے غیر اعلانیہ چیف منسٹری کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔پنجاب انتظامیہ کو ہدائت جاری کر دی جائے کہ کوئی ریاستی عہدے دار اس نوجوان کی میٹنگ میںنہیں جائے گا، نہ ان کے کسی حکم کو ماننے کا مکلف ہو گا۔ محترمہ مریم نواز اپنا گھر سنبھالیں، اور حمزہ شہباز قومی اسمبلی میں جائیں اور سیاسی تربیت حاصل کریں، قانون سازی کا درس لیں۔اور بادشاہت کے خاتمے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ شہباز شریف صرف پنجاب کی چیف منسٹری کریں، ملک کی وزارت عظمی میں ،منہ نہ ماریں۔
وزیر اعظم اور وزیر اعلی کا جمہوری فرض یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں اپنی حاضری باقاعدہ بنائیں۔اپنی اپنی کابینہ مکمل کریں اور کابینہ کے ہر رکن کو بااختیار بنائیں۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی وزیر خارجہ نہیں لیکن یہ فریضہ بھی شہباز شریف نے سنبھال رکھا ہے، وہ وزیر پانی و بجلی کے طور پر بھی چین اور جرمنی کے سرمایہ کاروں سے مذاکرات کرتے پھرتے ہیں، کس برتے پر، یہ کام متعلقہ وزرا کے ہیں ۔اگلا اقدام یہ ہونا چاہئے کہ اقربا پروری کا خاتمہ کیا جائے۔ ہر منصب صرف اور صرف اہلیت اور صلاحیت کی بنا پر اور شفاف طریقے سے ہی کسی کو عطا کیا جائے، خاندانی قربت یا دوستی کو معیار نہ بنایا جائے۔ اس معیار پر جتنی بھی تقرریاں ہو چکی ہیں ، انہیں بیک جنبش قلم ختم کیا جائے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ریاستی ملازمین کے لئے وفاداری کی شرط نہ رکھی جائے بلکہ انہیں آئین، قانون اور مسلمہ اصولوں کے مطابق چلنے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے۔
قادری صاحب کی بات ٹھیک ہے کہ کفن ایک ہے، لیکن کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ صرف ایک مطالبہ رکھتے کہ ا س کفن میں بادشاہت ا ور شہنشاہیت کو لپیٹ کر ہمیشہ کے لئے قبر میں دفن کر دیا جائے گا، انہیں کہنا چاہئے تھا کہ ملک میں صرف جمہوریت چلے گی، آئین کو بالادستی ہو گی اور آئین ا ور جمہوریت کے تحت منتخب وزیر اعظم سے استعفی نہیںمانگاجائے گا ،صرف شہنشاہیت ا ور بادشاہت سے استعفی لیا جائے گا۔جمہوریت اور اسلامی اصولوں کی رو سے ریاست کا حکمران عوام کا خادم ہوتا ہے ا ور آئندہ سے ا سے حقیقی خادم بن کر ہی حکومت کرنا ہو گی، خادم ہونے کے اشتھاروں کے بل پر حکومت کرنے کاحق نہیں دیا جائے گا۔اور یہ جمہوری مزاج صرف وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے لئے ہی ضروری نہیںبلکہ ان کے وزرا اور عوامی نمائندوں کے لئے بھی ضروری ہو گا۔اور درجہ بدرجہ ،ہر سرکاری اہل کار کو بھی عوامی اور جمہوری رویہ اختیار کرنا ہو گا۔اگر یہ نہیں ہو پاتا تو پھر کیسا انقلاب ا ور کیسی تبدیلی، ایک بادشاہ کو نکال کر دوسرے آکڑخاں یا تیسرے علامہ دھمکی کو تخت پر متمکن کرنا گھاٹے کا نہیں ، سراسربے وقوفی اور حماقت کا سودا ہو گا جو کم ا ز کم مجھے تو منظور نہیں۔پھر یہی بادشاہ منظور ہیں۔
عمران کا اصل مسئلہ شادی کا تھا، آزادی کا نہیں تھا، اب شادی کے لئے اسے کئی پیش کشیں ہو چکی ہیں، کسی ایک کوقبول فرمائیں اور ہنی مون پر نکل جائیں، قوم کی جان چھوڑیں ، روز روز سر نہ کھائیں ، نئی زوجہ محترمہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی دیسی مرغی اور ماش کی دال جیسے نت نئے پکوان کھائیں۔موج اور میلہ اڑائیں۔
موجودہ حکومت کو زرداری حکومت کی طرح پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ہے۔یہ ٹرم ہرحال میںپوری ہونی چاہئے، کو ن ہوتا ہے یہ آئینی حق چھیننے والا۔ کہاں سے آگئے نئے سلطانہ ڈاکو۔
بشکریہ ( نوائے وقت )
Qaumen Red zone ki muhtaj nahi hotin - by Nazia Mustafa - قومیں ریڈ زون یا کیلان جایہ کی محتاج نہیں ہوتیں!
یہ مئی 2013ء کا دوسرا ہفتہ تھا، اس مہینے میں ایک ایسا واقعہ ہو چکا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد دکھی تھی، سب لوگ غمگین تھے، سب پریشان تھے، سب ماتم کناں تھے، سب کی پلکیں یوں بھیگ رہی تھیں جیسے اُن سے اُن کی کوئی قیمتی متاع چھین لی گئی ہو، جیسے وہ یتیم ہو گئے ہوں یا جیسے ان کا کوئی بہت قریبی عزیز ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دنیا چھوڑ گیا ہو۔ یہ سب لوگ اُٹھے ہوئے ہاتھوں کی دو انگلیوں سے فتح کا نشان بناتے ہوئے دارالحکومت کی جانب اُدھر رواں دواں تھے جہاں ان کے قائد نے انہیں بروقت پہنچنے کی ”کال“ دی تھی۔ سیاہ ماتمی لباس پہنے یہ سارے لوگ دراصل مئی 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجاً اکٹھے ہو رہے تھے، ان لوگوں میں شامل ہر شخص سمجھتا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، عام انتخابات میں ان لوگوں نے حکومت کے خلاف بڑی زبردست انتخابی مہم چلائی تھی، یہ سارے لوگ ”انصاف پارٹی“ سے تعلق رکھتے تھے، یہ لوگ معاشرے میں انصاف کیلئے بڑی زبردست تحریک بھی چلا رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ عوام نے بھی انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھا، انتخابی مہم کے دوران ان کے جلسے بھی بڑے شاندار ہوئے تھے، جنہیں دیکھ کر بڑے بڑے سیاستدان ان کی جماعت میں شامل ہو گئے تھے۔ عوام میں بے پناہ مقبولیت دیکھ کر انہیں سترہ برس بعد پہلی مرتبہ اپنے قائد کے وزیر اعظم بننے کا یقین ہو چلا تھا۔
لیکن پولنگ ختم ہونے کے بعد جیسے ہی انتخابی نتائج کا اعلان ہونا شروع ہوا توان کے ارمانوں پر اوس پڑنے لگی، تمام حلقوں کے نتائج سامنے آنے پر انصاف پارٹی الیکشن ہار گئی تھی اور مخالفین نے واضح اکثریت حاصل کر لی تھی۔ ”انصافیوں“ کے قائد نے انتخابی نتائج کو دھاندلی قرار دے کر اس کے خلاف ملین مارچ کا اعلان کیا تو ”انصافی“ بھی لنگوٹ کس کر میدان میں نکل آئے ۔ یہ سب لوگ جب اپنے قائد کی کہی ہوئی جگہ پر اکٹھے ہو چکے تو پنڈال میں تل دھرنے کی جگہ باقی نہ بچی تھی۔ انصافیوں نے اس اجتماع کو انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر قرار دیا، لیکن غیر جانبدار مبصرین کے مطابق بھی ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے کم نہ تھی، البتہ بی بی سی نے یہی تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ بتائی۔ یہ لوگ لاکھوں میں تھے یا ہزاروں میں، لیکن یہ تمام لوگ مکمل متحد نظر آتے تھے، ہر شخص نے دکھ اور احتجاج کے اظہار کیلئے سیاہ ماتمی لباس زیب تن کر رکھا تھا، سارا پنڈال سیاہ ماتمی ملبوسات اور سیاہ پرچموں کی وجہ سے کالا کالا نظر آ رہا تھا۔
کنٹینر پر بنے اسٹیج پر ان لوگوں کا قائد نمودار ہوا تو پرجوش مجمع خطاب سننے کیلئے خاموش ہو گیا۔ ادھیڑ عمر لمبے تڑنگے اور پتلے قائد نے ہاتھ میں مائیک پکڑا تو نعرے بازی تھم سی گئی ”میرے چیتو! تم نے انتخابات میں مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا، میں اس پر تمہارا شکرگزار ہوں، مجھے انتخابات ہارنے کا کوئی دکھ نہ ہوتا اگر واقعی میں انتخابات ہارا ہوتا تو میں یہ شکست قبول کر لیتا، لیکن حقیقت میں میرے ساتھ نہیں بلکہ آپ کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے، آپ نے جو مینڈیٹ ہمیں دیا، وہ چرا لیا گیا، انتخابات میں جعلی ووٹ ڈالے گئے، بیرون ملک مقیم افراد کو ووٹ ڈالنے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، ناقص سیاہی استعمال کی گئی، تیس سے زائد حلقوں میں انتخابات کرانے والوں نے پنکچر لگائے، جس کی مدد سے ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا، ہمیں اپنے ساتھ ہونے والی اس دھاندلی اور زیادتی پر انصاف چاہیے“۔ جواب میں مجمع سے گلے پھاڑنے والے نعرے بلند ہوئے”نو نجیب نو، گو نجیب گو“۔ جی ہاں! انتخابی دھاندلی کے خلاف یہ ملین مارچ کوئی اسلام آباد کے ریڈ زون میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف نہیں ہو رہا تھا، بلکہ یہ مظاہرہ ملیشیا میں گزشتہ برس 5 مئی کو ہونے والے انتخابات جیتنے والی نجیب رزاق کی حکومت کے خلاف ہو رہا تھا اور یہ احتجاج ریکارڈ کرانے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن نہ تھے، بلکہ یہ ملیشیا کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم کی جماعت ”عوامی انصاف پارٹی“ کے کارکن تھے۔
اس احتجاج کا اصل حسن سیاسی جماعتوں کا وہ رویہ تھاجس میں کسی نے عوام کو تکلیف سے دو چار کرنے کا نہیں سوچا اور کوئی عوام کے اعصاب شل اور قویٰ مضمحل کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں لایا۔ جب احتجاج کیلئے مقام متعین کرنے کا موقع آیا تو اس مقصد کیلئے کوالالمپور شہر کا انتخاب بالکل نہیں کیا گیا، بلکہ اس مقصد کیلئے نگاہ انتخاب دارالحکومت سے بہت دور جا کر ٹھہری ۔ پیٹالنگ جایہ ملیشیا کا ایک خوبصورت قصبہ ہے، یہ کوالالمپور سے بائیس منٹ کی مسافت اور ساڑھے چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع خوبصورت شہر ہے۔ پیٹالنگ جایہ کا مضافاتی قصبہ کیلان جایہ خوبصورتی میں اس سارے علاقے کی جان سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے تفریحی مقامات کی وجہ سے بھی مشہور ہے، سیاحت کیلئے ملیشیا جانے والے کیلان جایہ کی مشہور اور تاریخی جھیل دیکھنے ضرور جاتے ہیں، جس میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیاں سیاحوں پر سحر طاری کر دیتی ہیں۔ اسی قصبے میں مشہور ”کیلان جایہ فٹ بال اسٹیڈیم“ بھی ہے۔ یہ اسٹیڈیم 1998ء کی دولت مشترکہ کھیلوں کیلئے تعمیر کیا گیا، دولت مشترکہ کی کھیلوں کے بعد یہ اسٹیڈیم مقامی کھیلوں کیلئے مخصوص ہو کر تاریخ کے اوراق میں گم ہونے کو تھا کہ گزشتہ برس 8 مئی کو ایک مرتبہ پھر عالمی میڈیا میں یہ اسٹیڈیم شہہ سرخیوں کی زینت بن گیا۔ اس کی وجہ انور ابراہیم کی جماعت ”عوامی انصاف پارٹی“ کے کارکنوں کا انتخابی دھاندلیوں کے خلاف یہ مظاہرہ ہی تھا۔ عوامی انصاف پارٹی نے اپنے مظاہرے کیلئے دارالحکومت کی بجائے اسی کیلان جایہ اسٹیڈیم کا انتخاب کیا تھا۔
قارئین کرام!! پاکستان کی تحریک انصاف اور ملیشیا کی عوامی انصاف پارٹی دونوں کا دعویٰ ہے کہ انتخابات میں ان کا مینڈیٹ چرایا گیا، لیکن انصاف حاصل کرنے کیلئے دونوں کے رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک نے انصاف حاصل کرنے کیلئے وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کر کے عوام کو تکلیف میں مبتلا کر رکھا ہے جبکہ دوسری نے ایک فٹ بال اسٹیڈیم کے اندر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنے شہریوں کے سکون کا بھی خیال رکھا۔ ایک جماعت کے احتجاج اور رویے کی پوری دنیا میں تحسین ہوئی جبکہ دوسری جماعت اپنے خلاف عالمی میڈیا کی کوئی خبر پڑھنا ہی نہیں چاہتی۔ ایک جماعت مسلسل شہر اقتدار پر قبضہ جمائے ہوئے ہے اور کسی ایکشن کی صورت پولیس چیف کو پنچ مارنے کی دھمکی دیتی جبکہ دوسری جماعت اپنے پولیس چیف اسماعیل عمر کی جانب سے اجتماع کو غیر قانونی قرار دیے جانے پر چند گھنٹوں میں کیلان جایہ اسٹیڈیم کو خالی کر کے گھروں کو روانہ ہو گئی۔ اگر اپنے عوام کو تکلیف نہ پہنچانے کے باوجود ایک غیر اخلاقی اسکینڈل کی وجہ سے انور ابراہیم آج کل جیل میں ہے تو عوام کو اذیت میں مبتلا کرنے والے بھلا وزیراعظم ہاو¿س کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ ہم کب سمجھیں گے کہ قسمت بدلنے کیلئے ملکی قیادت کے رویے ہی اہم ہوتے ہیں، قومیں ریڈ زون یا کلیان جایہ کی محتاج نہیں ہوتیں!
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
Pakistan main Mexico tarz ka takra - by Khalid Almaina پاکستان میں میکسیکو طرز کا سیاسی ٹاکرا
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ان دنوں میکسیکو کے اس روائتی سیاسی ٹکراو کا ماحول ہے جس میں کوئی فریق بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما عمران خان، جن کے نامزد کردہ سیاسی رہنما شریف حکومت کی مذکراتی ٹیم کے ساتھ ایک سے زائد بار بات چیت کر چکے ہیں لیکن عملا مذاکراتی عمل معلق ہے۔ ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد ہو سکا نہ کوئی فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ دے سکا ہے.
تحریک انصاف کے عمران خان کے علاوہ شعلہ بیان مقرر ڈاکٹر طاہر القادری ہیں۔ وہ بھی پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے براجمان ہیں۔ دونوں نے وزیراعظم نواز شریف پر الزامات کا ایک طرح سے طومار باندھ دیا ہے۔ طرح طرح کے الزامات لگانے والے یہ احتجاجی رہنما مئی 2013 کے عام انتخابات میں بھر پور کامیابی حاصل کرکے بر سر اقتدار آنے والے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ آزاد عالمی انتخابی مبصرین نے مئی 2013 کے عام انتخابات کے حوالے سے ایک طرح سے کلین چٹ دے دی تھی کہ پاکستان کے یہ انتخابات ہر طرح سے شفاف اور غیر جانبدارانہ ماحول میں ہوئے ہوئے تھے۔
لیکن دونوں احتجاجی رہنما بضد ہیں کہ وہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کا استعفا دلوا کر ہی اسلام آباد سے واپس جائیں گے۔ دونوں نواز شریف پر نہ صرف انتخابی دھاندلیوں کے بلکہ اقربا پروری اور کرپشن کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔
بھاری ووٹوں سے جیت کر آنے والے وزیر اعظم کا استعفا لیے بغیر واپس نہ جانے کا کھلا اعلان کرنے والے عمران خان دوسرے احتجاجی طاہر القادری سے زیادہ سخت موقف رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کا کا لہجہ بیک وقت نیم خوشامدانہ اور دھمکی آمیز ہوتا ہے ان کا کہنا ہے اگر مظاہرین پر پولیس نے حملہ کیا گیا تو سخت ردعمل ہو گا۔ عمران خان نے اسلام آباد کے نئے پولیس چیف کو بھی اس حوالے سے بطور خاص خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاون نہیں ہونا چاہیے۔
جب یہ ڈرامہ جاری ہے نواز شریف کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے لیے موجود آپشنز اور اپنے ممکنہ جواب کی تیاری کریں۔ وہ بہرحال ایک منتخب وزیر اعظم ہیں۔ یہ ایک آسان معاملہ نہیں ہے کہ پورے ملک میں ریلیوں سے نمٹا جائے، ایم کیو ایم کے کراچی میں ٹارگٹ کلرز کے ساتھ نرمی اختیار کی جائے، بلوچستان میں بدامنی کے چیلنج سے نمٹا جائے۔ اس صورت حال میں میاں نواز شریف عملا تنہا کھڑے ہیں۔ لیکن پاکستان کے تحفظ کے لیے انہیں اس طرح کے خوف پر حاوی ہونا ہو گا اور فیصلہ نہ کر سکنے والی کیفیت سے نکلتے ہوئے انہیں دانش مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
میاں نواز شریف کو جن حالات کا سامنا ہے 1952 میں اسی سے ملتی جلتی صورت حال کا سامنا مغربی دنیا کے مارشل ول کین کو گیری کوپر سے تھا۔ امریکی فلم ہائی نون کے اس ہیرو نے بھی تنہا حزب اختلاف کا مقابلہ کیا تھا کہ اس کے شہر کے لوگ بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس لیے اس صورت حال کا قوم کے مستقبل پر مثبت اثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب عمران اور قادری دونوں ''تیسرے فریق'' کے بھی منتظر ہیں جبکہ پاکستان کی فوج اس منظر نامے کو بڑے اضطراب کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ بہت سارے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ فوج بیچ میں آنے یا مداخلت کرنے سے بچ رہی ہے کیونکہ فوج پہلے ہی ملکی سحدوں کی حفاظت کرے کے لیے دشت گردوں کے خلاف جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ اس ناطے بہت کچھ خطرات کی زد میں ہے۔ ملکی معیشت افراتفری اور بے یقینی کی وجہ سے نیچے کی طرف ہے۔ اس لیے پاکستان کا بہترین مفاد اس بات میں ہے کہ بامعنی مذاکرات کیے جائیں۔
عمران خان کی جماعت جو کہ عوامی شکایات اور مسائل کی بات کرتی ہے اسے چاہیے کہ وہ عوام کی حقیقی مشکلات اور مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے بتدریج اصلاحات کی طرف بڑھنا ہو گا۔ حکومت کو عوام کو شفافیت کا یقین دلانا ہوئے کرپٹ عناصر کا سرکاری اداروں سے قلع قمع کرنا ہو گا۔ طاہرالقادری کو واپس کینیڈا آنا ہو گا۔ میرے خیال میں طاہرالقادری کی شہرت ہے کہ وہ شہرت کی ہوس کا شکار ہیں۔ ان کی ''بغاوت'' شہرت کی خواہش کے ساتھ عبارت سمجھی جاتی ہے۔ جس کا مقصد صرف افراتفری پھیلانا ہو سکتا ہے۔
لیکن پاکستان ان حالات میں کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو چاہیے کہ وہ دونوں محب وطن رہنماوں کو کچھ زیادہ بہتر پیش کش کریں تاکہ وہ ملک و قوم کی زیادہ خدمت کر سکیں۔ ہمیں امید اور دعا کرنی چاہیے کہ وہ اس صورتحال سے اوپر کو اٹھیں گے اور بچ نکلیں گے، نیز اپنے ملکی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے۔
العربیا اردو
العربیا اردو
Emaan afrooz dharney - by Ayaz Amir - ایمان افروز دھرنے
پاکستان تحریکِ انصاف کے شاہرائے دستور پر دھرنے میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جوش سے رقص کرتے ہیں تو جمعیت علمائے اسلام کے مولوی، جن کی قیادت پاکستانی سیاست کے جادوگر، مولانا فضل الرحمن، جو ہر حکومت میں شامل ہونے کا گرُ جانتے ہیں، کے ہاتھ ہے، غصے سے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ مولانا حضرات بتا سکتے ہیں کہ اس کے علاوہ نوجوان لوگ کیا کریں؟ کیا وہ خود کش حملے کرنے کی کلاسز اٹینڈ کریں؟ کیا وہ یہ سیکھیں کہ سیاہ ڈیزل کے پرمٹ کو کس طرح چمکدار سونے میں بدلا جاتا ہے؟
ہمارا واسطہ کس قسم کی منافقت سے پڑا ہے؟ بدقسمتی سے ایک ٹی وی ٹاک شو میں تھا تو اسی جماعت کے سینیٹر حافظ حمداﷲ نے پی ٹی آئی کی ریلی کو نائٹ کلب قرار دیا۔ میںنے حیرت سے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ کیا مولانا کو پتہ ہے کہ ایک نائٹ کلب میں کیا ہوتا ہے، کیا اُنھوںنے کبھی وہاں قدم رنجہ فرمایا؟ یا پھربقول لسان العصر حضرت اکبر الہ آبادی: ’’ناتجربہ کاری سے واعظ کی یہ باتیں ہیں... اس رنگ کو کیا جانے، پوچھو جو کبھی۔۔۔‘‘۔ جواب ندارد، مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنے کو ’’مغربی یلغار‘‘ قرار دے دیا۔ ان سے پہلے کسی اور رہنما کو ناتجربہ کاری، یا بچپنے کی بنا کر اس دھرنے میں ایسی کوئی بات دکھائی نہیں دی تھی، لیکن مولانا اور ناتجربے کاری؟
دراصل مولانا کا مسلۂ صاف ظاہر ہے۔ خیبر پختونخوا میں اب عمران خان کی پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ یہاں کبھی مولانا نے بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ اب تو وہ بہار کے دن روٹھ چکے ہیں، اس لیے ان کا قہرآلود غصہ بجا۔ رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن، جو دوربین کے ایک سرے پر آنکھ جمائے کوئی ساڑھے تین لاکھ کلومیٹر دور ایک اور موہوم اور شرمیلے سے چاند کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو قوم اس کاوش کو تفریح سمجھتی ہے، نے بھی پی ٹی آئی کے د ھرنے پر چاندماری کی۔ بالکل ٹھیک ہوا۔ اگروہ بھی پی ٹی آئی کی حمایت میں آجاتے تو پریشانی کی بات تھی۔
ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی مولوی بھی مرد و زن کو تفریح کرتے، جشن مناتے اور رقص کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ہے... تاہم دیکھے بغیر تنقید بھی نہیں ہو سکتی۔ ان علماء کی زنبیل میں رقص و موسیقی نہیں، آگ ، سزا اور تکفیر ہے۔ اُنہیں عورتوں کے حوالے سے بھی کچھ مسائل ہیں۔ ان مسائل کا تعلق اُن کی مذہبی سوچ اور انہی خطوط پر حاصل کیے گئے علم سے ہے۔ وہ خواتین کو گھروں میں بند رکھنا چاہتے ہیں، اس لئے ان خواتین کی آزادی علماء کے لئے ڈرائونا خواب بن چکی ہے۔ یہ صرف پی ٹی آئی کے جلسے ہی نہیں جنہیں دیکھ کر انہیں آگ لگ جاتی ہے، ان کے نزدیک ہی پاکستان عوامی تحریک کا بہت بڑا دھرنا ہے، جس میں عورتیں اور نوجوان لڑکیاں ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکن دن کو کہیں چلے جاتے ہیں لیکن شام ہوتے ہی پنڈال سجنے لگتا ہے، رونق بڑھ جاتی ہے اور جوش سے فضا رنگین ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف پی اے ٹی کے کارکن وہیں بیٹھے رہتے ہیں اور ان کی حالت بہت خراب ہو چکی ہے۔ تاہم وہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی ہدایت کے مطابق نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بھی اپنی تقاریر میں مرد وزن کی مساوات، حتی کہ اقلیتوں کے حقوق کی بھی بات کرتے ہیں۔
پاکستان کے روایتی مذہبی طبقے، جیسا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت، کے لئے یہ بات ناقابلِ برداشت ہے۔ ان کے تنگ نظر عقید ے سے اس فرخ دلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس میں کوئی جائے حیرت نہیں اگر انتہا پسند گروہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری کے خلاف عزائم رکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ اپنے نئے امیر، سراج الحق کی قیادت میں جماعتِ اسلامی اس بحران میں نسبتاً بہتر روپ میں دکھائی دی ۔ اس نے کم از کم مولانا فضل الرحمٰن کی طرح ’’اسلام خطرے میں ہے‘‘ کا نعرہ بلند نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سراج الحق کو زیادہ اختیار ملنا چاہئے... مگر یہ بات بھی خطرے سے خالی نہیں کیونکہ ان کی وجہ سے عوام کے نزدیک جماعت کا روایتی تصور بدل سکتا ہے اور وہ اسے ایک روشن خیال جماعت سمجھ سکتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے باس الطاف حسین بہت معقول باتیں کر رہے ہیں۔ ان کے لندن سے جاری ہونے والے بیان کا ہر لفظ جچا تلا ہوتا ہے۔ وہ حکومت اور دھرنے دینے والی جماعتوں سے تحمل، برداشت اور عقلمندی کا مظاہرہ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اُنہیں خبردار بھی کر رہے ہیں کہ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو کہیں ایسا نہ ہو صورتِ حال ہاتھ سے نکل جائے اور، جیسا کہ خدشہ ہے، دفاعی اداروں کو مداخلت کرنا پڑ جائے۔ اس تمام صورتِ حال میں ایم کیو ایم اور جماعتِ اسلامی معقول بات کر رہی ہیں۔ اس دوران مولانا فضل الرحمٰن، مفتی منیب الرحمن اور ان جیسے دیگر علماء کی حماقتوں کے مقابل کوئی حریف دکھائی نہیں دیتے۔ موجودہ بحران نے بہت سوں کو ایکسپوز کر دیا ہے... یقینا بحران کی کسوٹی پر ہی دانا اور نادان کی پہچان ہوتی ہے۔
محمود اچکزئی بھی حکومت کے حامی بن کر جمہوریت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کا غصہ بھی ریلیوں پر رواں ہے۔ کسی زمانے میں وہ بھی آزادی کے مجاہد کہلاتے تھے... کم از کم ڈرائینگ روم کی حد تک۔ تاہم آج کل ایسا لگتا ہے کہ اُنہیں خود کلامی کی بہت زیادہ عادت پڑ گئی ہے۔ جمہوریت کے علم برداروں کے لئے ایک پریشان کن چیزیہ ہے کہ مارچ کرنے والے انتہائی پرامن رہے ہیں۔ ان کی طرف سے کسی کھڑکی کا ایک شیشہ یا گملا تک نہیں ٹوٹا۔ اُنھوں نے کسی پر سنگ باری نہیں کی۔ پاکستان عوامی تحریک کااجتماع کئی دنوں سے سورج کی گرمی اور موسلادھار بارش براشت کر رہا ہے۔ تاہم وہ صبر کے مجسمے بن کر بھی مزاح کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اگر آپ ان کے دھرنے میں جائیں تو آپ کو ان کی مسکراہٹ اور زندہ دلی دکھائی دے گی۔ وہ پرعزم تو دکھائی دیں گے لیکن مشتعل ہرگز نہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنے پیروکاروں کو متحرک کریںگے۔ اب تک اُنھوں نے یہ نیکی کیوں نہیں کمائی؟ میں بھی ان کے پیروکاروں کو کچھ دن تک دھوپ اور بارش میں آسمان تلے بیٹھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ لوگوں کو متحرک کرنا کہنے کو آسان ہے لیکن ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔ پی ایم ایل (ن) بھی دھرنے کی مخالفت میں ریلیاں نکالنے کی کوشش میں ہے۔ ان کی ریلیوں میں عورتیں یا بچے نہیں دکھائی دیے۔ پی ایم ایل (ن) کی کچھ عہدیدار ہوں گی لیکن عوامی سطح پر خواتین اور بچوں کی نمائندگی ان کے جلسوں میں عنقا ہوتی ہے۔ خطابت کے جوش میں شہباز شریف آصف علی زرداری اور ان کی حکومت کو ’’علی بابا اور چالیس چور ‘‘ کہ اکرتے تھے۔ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ ’’ مسٹر علی بابا‘‘ کو گردن سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ تاہم یہ اُس وقت کی بات ہے۔ آج یہ س احباب مل کر جمہوریت کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ علی بابا اور پاکستان کے سب سے بڑے بنک نادہندگان جمہوریت کو بچانے کے لئے کمربستہ ہیں اوراُنہیں محمود خان اچکزئی اور مولانا ڈیزل کی بھی خدمات حاصل ہیں۔
میں بھی جمہوریت کا حامی ہوں، تاہم مجھے کچھ اور بھی فکر ہے۔ اگر شریف برادران کو کچھ ہوگیا تو جو کچھ اُنھوں نے میٹرو بس کے نام پر اسلام آباد میں طوفان برپا کیاہوا ہے، ا س کا کیا بنے گا۔ اُنھوں نے ہر جگہ جو ممکن تھی کھود ڈالی ۔ اس مارچ اور دھرنے پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دھرنے کی وجہ سے شاہراہِ دستور پر گندگی پھیل گئی ہے۔ کیا اس گندگی سے اسلام آباد تباہی کے قریب پہنچ گیا ہے؟ کیا میگا پروجیکٹس نے اسے ادھیڑ کر نہیں رکھ دیا ہوا؟ پاکستان عوامی تحریک کے کارکن بہت منظم دکھائی دیتے ہیں۔
جب انہیں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے تو نہایت منظم طریقے سے قطار بنا لیتے ہیں اور یہ عام پاکستانی کا خاصہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ اور قومی اسمبلی کے سامنے سڑک کے دوسری طرف عارضی ٹوائلٹ بھی قائم ہیں۔ اگرچہ اس مقام پر اس طرح قطار درقطار ٹوائلٹ قائم کرنے سے شاید مقام کی بے حرمتی کا تاثر ابھرے لیکن اسلام آباد کے قیام سے لے کر اب تک یہاں جو کچھ ہو چکا ہے، وہ بھی بہت قابلِ فخر نہیں ہے...
ٹوائلٹ میں تو پھر بھی طہارت کا پہلو نکلتا ہے۔ ان دھرنوں کے حوالے سے میں ایک عجیب بات بتانا چاہتا ہوں۔ میں خود کو بہت اچھا مسلمان تصور نہیں کرتا.... آپ میرا مطلب سمجھتے ہیں۔ لیکن جب پی ٹی آئی یا پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے میںجاتا ہوں تو مجھے آدمیوں اور عورتوں کی آنکھوں، حتیٰ کہ ان کے گانوں اور رقص میں ایک انوکھا ولولہ اور جوش محسوس ہوتا ہے۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ میرا ایمان بھی تازہ ہو رہا ہے۔ پلیز اسے بڑھاپے کی علامت نہ قرار دیجئے گا۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
Foot and mouth smell and indigenous treatments پاؤں اور منہ کی بدبو کا دیسی علاج
بدبو منہ کی ہو یا پاؤں کی‘ آپ کے لئے کسی بھی محفل میں شرمندگی اور ارد گرد بیٹھے لوگوں کے لئے ناگواری کا باعث بنتی ہے۔
انسانی جسم پورے کا پورا بدبو پیدا نہیں کرتا بلکہ جسم کے کچھ خاص حصے ہوتے ہیں، جو ایسی صورت حال پیدا کر دیتے ہیں۔ پسینے کے باعث خصوصاً مردوں کے پیروں سے بہت زیادہ بدبو آتی ہے، کیوں کہ زیادہ تر مرد حضرات ہی بند جوتے پہنتے ہیں۔
ایسے لوگ تھوڑی دیر بند جوتا پہن کر اگر جرابیں اتاریں، تو آپ انہیں اپنے پاس نہیں بٹھا پائیں گے۔ اسی طرح جب بات کرنے پر آپ کے منہ سے بدبو آئے تو کوئی بھی آپ کے قریب آنا پسند نہیں کرے گا۔ منہ اور پاؤں کی بدبو اگر دوسروں میں ناگواری کا احساس پیدا کرتی ہے، تو سوچئے! جس کے پاؤں یا منہ سے بدبو آ رہی ہے، شرم کے باعث اس کا کیا حال ہوگا۔ جسم سے بدبو آنے کی کوئی مخصوص دوائی نہیں، لیکن چند احتیاطی تدابیر کو اختیار کرکے اس سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
پانی
پانی زیادہ پینے کے علاوہ اس سے غرارے بھی کریں۔ ہائیڈریشن (آبیدگی) منہ کی بو کا ایک اہم علاج ہے، کیوں کہ آپ کا جسم جب ڈی ہائیڈریٹڈ (پانی کی کمی) ہوتا ہے، تو منہ میں تھوک پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور یہی کمی منہ میں بدبو پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔
وٹامن سی
مالٹا، لیموں سمیت ترش پھل وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں اور وٹامن سی منہ کو تازہ رکھتے ہوئے اس میں بدبو پیدا نہیں ہونے دیتا۔
سیب
جب ہم سیب کو دانتوں سے کاٹتے ہیں تو تھوک پیدا ہونے کے نظام میں تحریک پیدا ہوتی ہے، جو قدرتی طور پر منہ کی صفائی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔
دار چینی کی چائے
ماہرین کے مطابق دار چینی کی چائے منہ اور سانسوں کو مہکائے رکھتی ہے۔ لہذا دن ایک بار ضرور دار چینی والی چائے پیئں۔
پودینہ
پودینہ کا استعمال منہ کی بدبو کے خاتمے کا نہایت موثر ذریعہ ہے، آپ نے اکثر مختلف ٹوتھ پیسٹ کے اشتہارات میں بھی اس کا ذکر سنا ہوگا، تو اگر آپ منہ کی بدبو سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کھانے میں پودینہ کے استعمال کو بڑھائیں۔
صفائی
پاؤں کی بدبو کے باعث ہونے والی شرمندگی سے بچنے کے لئے سب سے پہلی احتیاطی تدبیر صفائی کا خاص خیال رکھنا ہے۔ اپنے پیروں کو خشک اور صاف رکھیں، نہانے کے بعد انگلیوں کے درمیان والی جگہوں کو بھی خصوصی طور پر خشک کریں۔ ایک ہی جوتا یا جراب پورا ہفتہ مت استعمال کریں، اگر آپ کے پاس مزید جوتے یا جرابیں نہیں ہیں، تو جرابوں کو باقاعدگی سے اچھی طرح دھوئیں اور جوتوں کو کھلی فضا میں رکھیں۔
دافع بدبو پاؤڈر
پیروں کی سٹراند کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دافع بدبو پاؤڈر یا سپرے استعمال کریں اور جوتوں کو کسی بند جگہ پر مت پڑے رہنے دیں۔
کھلے جوتوں کا استعمال
اگر موسم اجازت دے تو ہمیشہ کھلے جوتے، یعنی سینڈل اور چپل وغیرہ کا زیادہ استعمال کریں۔
ان کے علاوہ لونگ، سونف اور بڑی الائچی کا استعمال بھی آپ کی سانسوں کو مہکا اور جسمانی بدبو کوختم کر سکتا ہے۔
بشکریہ ایکسپریس
Courageous 54-year-old woman kills leopard with sickle خاتون کی بہادری
A 54-year-old woman from Uttarakhand's Rudraprayag district managed to fend herself from a leopard and escape the dangerous cat after suffering serious injuries, The Daily Mail newspaper reported earlier this week.
خاتون کی بہادری
54 سالہ خاتون حملہ آور چییتے کو مارڈالا۔ تفصیل پڑھیں
According to the newspaper, the struggle lasted for an hour and ended after Kamla Devi grievously injured the leopard with a sickle.
Kamla suffered three fractures and deep cuts and was treated after walking about one kilometer to reach her village where she found help.
The daily quoted a doctor as saying Devi was in stable condition.
The doctor said Devi had more than 100 stitches.
The paper said the incident was notable for being the first in which a woman killed the leopard which pounced on her.
Al Arabiya News
London police arrest man over #Imran Farooq's murder
LONDON - London police today arrested a man in connection with the murder of senior Pakistani politician Imran Farooq who was stabbed to death in the British capital in 2010.
Farooq, 50, a founding member of the Muttahida Qaumi Movement (MQM), was on his way home from work in north London when he was attacked. His death brought Karachi to a standstill.
Police said that they had arrested a 30-year-old man in east London on suspicion of being involved in the murder. Reuters
Pakistani politician murder: UK police make second arrest
Detectives investigating killing of exiled MQM party member Imran Farooq arrest man in Waltham Forest
Detectives investigating the murder of an exiled Pakistani politician who was ambushed on his way home from work have made a second arrest.
Dr Imran Farooq was stabbed several times and bludgeoned with a brick in Edgware, north London, four years ago, but his killers have never been caught.
Two Pakistani men – Moshin Ali Syed, 29, and Muhammad Kashif Khan Kamran, 35 – are both wanted over the murder, which involved two attackers.
Officers from Scotland Yard arrested a 30-year-old in Waltham Forest, north-east London, on Wednesday and are searching his home while he is questioned at a police station in central London.
This follows the arrest in June last year of a 52-year-old man, who had flown in to Heathrow from Canada, on suspicion of conspiracy to murder. He is now on police bail until October.
Farooq was a prominent member of the Pakistani political party MQM (Muttahida Qaumi Movement) and had been living in exile in the UK for more than a decade when he was killed.
In the weeks before his death, he had been trying to raise his own political profile and had set up a Facebook page.
Police believe he was attacked by two men who had been seen near his house at various times. Farooq died from stab wounds and head injuries. A £20,000 reward is available for information leading to the prosecution of his killers.
www.theguardian.com
عمران خان نے افتخار چوہدری کے بارے میں کہے گئے اپنے تعریفی کلمات واپس لے لیا۔۔۔ Imran Khan takes back letter ’praising’ ex-CJP Ifitkhar
Khobsorat #Pashto song - آپ کے لئے ایک خوبصورت پشتو گان۔۔۔سنیں، دیکھیں اور شیئر کریں
This isvery very popular song in pashto music this year.Niloo is sing this song in very nice tone.She is very talented singer in pashto music.She also very popular in Afghanistan.Niloo Came in pashto industry as a dancer but she improve her self as a singer.Now she is very famous in singing.
Bahut hi khobsorat #Pashto song - ایک بہت ہی خوبصورت پشتو گانا۔۔۔جسے آپ بار بار سنیں گے
Petition filed against the obscenity in PTI’s sit-in
by ONLINE
Petition filed against the obscenity in PTI’s sit-in
Islambad- Islamabad High Court (IHC) has been moved against the alleged obscenity and vulgarity being spread in the name of Azadi March by Pakistan Tehreek-e- Insaf (PTI) outside parliament house.
The petitioner, Shuhada Foundation Islamabad said in its petition filed through Muhammad Tariq Asad advocate has taken plea that PTI has staged dharna in the name of Azadi sit-in at D Chowk outside parliament house and songs of different sorts are played therein at night and renowned singers of the country are invited in the sit in. This activity is leading to spread obscenity and vulgarity and it is against Islamic traditions. Not only young girls and boys attend the dharnas but people from all age groups join it. The petitioner prayed the court to take notice of this situation forthwith and take action against all TV channels which are airing these Dharan programs. Information secretary, chairman PEMRA, CEOs of TV channels including ARY, EXPRESS, Sama, Dunia, Imran Khan chairman PTI and Qadir Ghauri, bureau chief of TNTV channel Islamabad have been made respondents in the petition. A single bench of IHC comprising Justice Athar Minullah will hear this case today.
Petition filed against the obscenity in PTI’s sit-in
Islambad- Islamabad High Court (IHC) has been moved against the alleged obscenity and vulgarity being spread in the name of Azadi March by Pakistan Tehreek-e- Insaf (PTI) outside parliament house.
The petitioner, Shuhada Foundation Islamabad said in its petition filed through Muhammad Tariq Asad advocate has taken plea that PTI has staged dharna in the name of Azadi sit-in at D Chowk outside parliament house and songs of different sorts are played therein at night and renowned singers of the country are invited in the sit in. This activity is leading to spread obscenity and vulgarity and it is against Islamic traditions. Not only young girls and boys attend the dharnas but people from all age groups join it. The petitioner prayed the court to take notice of this situation forthwith and take action against all TV channels which are airing these Dharan programs. Information secretary, chairman PEMRA, CEOs of TV channels including ARY, EXPRESS, Sama, Dunia, Imran Khan chairman PTI and Qadir Ghauri, bureau chief of TNTV channel Islamabad have been made respondents in the petition. A single bench of IHC comprising Justice Athar Minullah will hear this case today.
Pashto #girls mast dance - پٹھان لڑکیوں کا مست ڈانس، ایک نہیں بلکہ 6 ویڈیو ، لطف اٹھائیں۔ ویڈیو دیکھیں
پاکستان میں طالبان کی نئی تنظیم کا قیام۔ بی بی سی اردو
پاکستان میں طالبان کی تنظیم میں ٹوٹ پھوٹ سے شدت پسند خود کتنے پریشان ہیں اس کا ثبوت ان کی جانب سے اس مایوسی اور انتشار کے خاتمے کے لیے ’جماعت الاحرار‘ نامی ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھنے سے ملتا ہے۔
غیرقانونی تحریک طالبان پاکستان، مہمند کی جانب سے ایک ویڈیو میں اس نئے گروپ کے قیام اور قاسم خراسانی کی بطور امیر تعیناتی کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ ’احرالہند گروپ‘ تھا جسے اب نیا نام ’تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار‘ دیا گیا ہے۔ ابھی تک سرکاری طور پر اس نئی تنظیم کے بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
کلِک ضرب عضب پر طالبان کی خاموشی: حکمت علمی یا کچھ اور؟
قبائلی علاقے مہمند کے علاوہ کئی دیگر علاقوں کے گروپوں نے اس میں شمولیت کا بھی اعلان کیا ہے۔
قبائلی علاقوں میں کسی نامعلوم مقام پر تیار کی گئی اس ویڈیو میں غیرقانونی تحریک طالبان، مہند کے علاوہ چارسدہ، باجوڑ اور اورکزئی ایجنسی کے شدت پسند رہنما موجود ہیں۔
’اب یہ ہی اصل تحریک طالبان‘
اس نئی تنظیم کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ دراصل نئی گروپ میں تحریک طالبان کے اکثر بانی اراکین شامل ہیں لہذٰا اب یہ ہی اصل تحریک طالبان ہے۔
مہند شاخ کے امیر خالد خراسانی اپنے بیان میں واضح کرتے ہیں کہ وہ تحریک طالبان کے اندر رہتے ہوئے اس نئے گروپ کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ تحریک طالبان کے سابق مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کو اس گروپ کا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو کس علاقے میں اور کب بنائی گئی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن آغاز میں یہ شدت پسند رہنما چار گاڑیوں اور کئی موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آتے ہیں اور ایک شخص کلاشنکوف سے گولیاں چلا کر ان کا استقبال کرتا ہے۔ کسی پریس کانفرنس کے انداز میں ایک میز کے پیچھے بیٹھے شدت پسند باری باری اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہیں۔
اپنے تفصیلی وضاحتی بیان میں خالد خراسانی اعتراف کرتے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان کے دسمبر 2007 میں قیام کے بعد سے تنظیم میں اتحاد و اتفاق کی مسلسل کوششیں ہوئی لیکن بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ اس سے ان کی جدوجہد کا اصل مقصد پس پشت چلا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ کسی کو کسی علاقے کا امیر مقرر کر دیا جاتا تو وہ بادشاہ بن جاتا اور اسے ہٹانا مشکل ہو جاتا تھا۔ شاہ کی یہ وہی تشبہہ ہے جو اکثر قبائلی علاقوں میں حکومت کے تعینات کردہ پولیٹکل ایجنٹس کے لیے بھی نالاں لوگ استعمال کرتے آئے ہیں۔
خالد کا کہنا تھا کہ تنظیم کے اندر اسی انتشار کی وجہ سے محسود قبیلے اور کرم ایجنسی کے اراکین تنظیم سے علیحدہ ہوگئے۔ اس نئے گروپ کا مقصد اس مزید تقسیم، مایوسی اور انتشار کو مستقبل میں روکنا ہے۔ انھوں نے اس میں افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کی تقلید کی مثال تو دی لیکن اپنی تحریک کے سربراہ مولانا فضل اللہ کا ذکر کہیں بھی نہیں کیا۔
اس موقع پر اپنی تقریر میں ’احرار الہند‘ کے رہنما قاسم خراسانی نے کہا کہ انھوں نے تحریک اس لیے نہیں بنائی تھی کہ اسے چند لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں جو اپنی کمانڈر کی کرسی مضبوط کریں اور مزے کریں۔ ’اب یہ نئی تنظیم ہم خود چلائیں گے۔ اپنے مسائل کا حل تلاش کریں گے۔ تحریک طالبان پاکستان چند افراد کے ہاتھوں میں یرغمال ہے اور چونکہ ہم ان کے ساتھ اس نظام میں آگے نہیں بڑھ سکتے تو آئیں ایسا کرتے ہیں کہ ہم اس تحریک کا اعلان کرتے ہیں‘۔
خالد خراسانی کے بیان کے مطابق وہ تحریک طالبان کا حصہ ہوتے ہوئے اس نئے گروپ میں شامل ہوئے ہیں لیکن قاسم خراسانی کے بیان سے لگتا ہے کہ یہ ایک الگ نیا گروپ ہے۔
مہمند ٹی ٹی پی کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ سے قاری شکیل، اورکزئی سے مولانا حیدر منصور اور باجوڑ کے مولانا عبداللہ نے اس موقع پر نئے گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
احرار الہند کا نام پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا۔ اس گروپ نے اسلام آباد میں کچہری پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ اب یہ بظاہر تحریک طالبان کے اندر ناراض یا مایوس افراد کو اکھٹا کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔
انڈونيشيا: خواتين مولويوں کا حدفِ تنقيد
سب سے بڑی مسلم آبادي والے ملک انڈونیشیا میں حجاب یا جلباب کا استعمال عام ہے۔ نت نئے ڈیزائنزکے حجاب و جلباب کے کاروبار ميں چاندي ہي چاندي ہے ۔ مگر انڈونيشيا کي اثرو رسوخ رکھنے والی اسلامک کلیرکس کاؤنسل کي يہ کہتے بھنويں تني ہيں کہ ايسا حجاب محض ڈھونگ ہے کيونکہ زير حجاب بقيہ کپڑے اتنے تنگ اور کسے ہوے ہوتے ہیں لگتا ہے جسم کي نمائش لگي ہے۔ جکارتہ سے پنتا کارانہ کی رپورٹ
Burger King in talks to buy Tim Hortons in tax inversion deal
by Associated Press in Miami
Burger King is in talks to buy doughnut chain Tim Hortons and create a new holding company headquartered in Canada, a move that could shave its tax bill.
Such an overseas shift, called a tax inversion, has become increasingly popular among US companies and a hot political issue. Burger King was founded in 1954 with a single restaurant in Miami, where it is currently based.
Shares of Burger King and Tim Hortons both jumped 17% before the opening bell, heading toward all-time highs.
In a tax inversion, a US company reorganizes in a country with a lower tax rate by acquiring or merging with a company there. Inversions also allow companies to transfer money earned overseas to the parent company without paying additional US taxes. That money can be used to reinvest in the business or to fund dividends and buybacks, among other things.
Companies like AbbVie, a pharmaceutical with its headquarters just outside Chicago, have tied up with companies overseas to achieve that type of tax cut. More recently, Walgreen backed away from such a plan under intense pressure and criticism at home.
Burger King and Tim Hortons cautioned on Sunday that there was no guarantee a deal would happen, and it’s not clear exactly how much a tie-up would reduce Burger King’s tax costs. But a recent report by KPMG found that total tax costs in Canada are 46.4% lower than in the United States.
Burger King said its majority owner, investment firm 3G Capital, would own the majority of shares of the new company if a deal were to happen.
Tim Hortons
Tim Hortons, known for its doughnuts and coffee, has been paired with US fast-food chains in the past. Photograph: Peter Jones /Reuters
3G Capital, which has offices in Brazil and New York, is known for its aggressive cost-cutting. The firm bought Burger King in 2010 and went to work trimming overhead costs and revamping operations before taking the chain public again in 2012. Last year, 3G also teamed with Berkshire Hathaway Inc to take HJ Heinz Co private in a $23bn deal, and has been cutting costs there as well.
Tim Hortons, known for its doughnuts and coffee, has been paired with US fast-food chains in the past. It was purchased by Wendy’s International Inc in 1995. Then in 2006 it completed an initial public offering and was spun off as a separate company.
Burger King and Tim Hortons say the deal would also allow the doughnut chain to accelerate its growth in international markets. The company had 4,546 restaurants at the end of June, with 3,630 in Canada, 866 in the US and 50 in the Persian Gulf area.
The companies say Burger King Worldwide Inc and Tim Hortons Inc, based in Ontario, would continue to operate as separate brands but would share corporate services. The talks were first reported by The Wall Street Journal.
The new company would have 18,000 restaurants in 100 countries with about $22bn in sales, which the companies say would make it the world’s third-largest fast-food restaurant company.
Burger King’s stock surged $4.29, to $31.40 before the market opened Monday. Shares reached an all-time high of $68.95 on Friday.
Shares of Tim Hortons jumped $10.66 to $73.50 before the opening bell. Shares of the Canadian company also hit an all-time high Friday at $68.95.
Burger King is in talks to buy doughnut chain Tim Hortons and create a new holding company headquartered in Canada, a move that could shave its tax bill.
Such an overseas shift, called a tax inversion, has become increasingly popular among US companies and a hot political issue. Burger King was founded in 1954 with a single restaurant in Miami, where it is currently based.
Shares of Burger King and Tim Hortons both jumped 17% before the opening bell, heading toward all-time highs.
In a tax inversion, a US company reorganizes in a country with a lower tax rate by acquiring or merging with a company there. Inversions also allow companies to transfer money earned overseas to the parent company without paying additional US taxes. That money can be used to reinvest in the business or to fund dividends and buybacks, among other things.
Companies like AbbVie, a pharmaceutical with its headquarters just outside Chicago, have tied up with companies overseas to achieve that type of tax cut. More recently, Walgreen backed away from such a plan under intense pressure and criticism at home.
Burger King and Tim Hortons cautioned on Sunday that there was no guarantee a deal would happen, and it’s not clear exactly how much a tie-up would reduce Burger King’s tax costs. But a recent report by KPMG found that total tax costs in Canada are 46.4% lower than in the United States.
Burger King said its majority owner, investment firm 3G Capital, would own the majority of shares of the new company if a deal were to happen.
Tim Hortons
Tim Hortons, known for its doughnuts and coffee, has been paired with US fast-food chains in the past. Photograph: Peter Jones /Reuters
3G Capital, which has offices in Brazil and New York, is known for its aggressive cost-cutting. The firm bought Burger King in 2010 and went to work trimming overhead costs and revamping operations before taking the chain public again in 2012. Last year, 3G also teamed with Berkshire Hathaway Inc to take HJ Heinz Co private in a $23bn deal, and has been cutting costs there as well.
Tim Hortons, known for its doughnuts and coffee, has been paired with US fast-food chains in the past. It was purchased by Wendy’s International Inc in 1995. Then in 2006 it completed an initial public offering and was spun off as a separate company.
Burger King and Tim Hortons say the deal would also allow the doughnut chain to accelerate its growth in international markets. The company had 4,546 restaurants at the end of June, with 3,630 in Canada, 866 in the US and 50 in the Persian Gulf area.
The companies say Burger King Worldwide Inc and Tim Hortons Inc, based in Ontario, would continue to operate as separate brands but would share corporate services. The talks were first reported by The Wall Street Journal.
The new company would have 18,000 restaurants in 100 countries with about $22bn in sales, which the companies say would make it the world’s third-largest fast-food restaurant company.
Burger King’s stock surged $4.29, to $31.40 before the market opened Monday. Shares reached an all-time high of $68.95 on Friday.
Shares of Tim Hortons jumped $10.66 to $73.50 before the opening bell. Shares of the Canadian company also hit an all-time high Friday at $68.95.
About 1,400 Rotherham children 'sexually exploited over 16-year period'
Report claims police and council agencies failed victims, some of whom were threatened with guns and gang-raped
About 1,400 children were sexually exploited in Rotherham over a 16-year period, according to a report that concluded "it is hard to describe the appalling nature of the abuse that child victims suffered".
The report on events in the town in South Yorkshire, between 1997 and 2013, found that in more than a third of these cases the youngsters were already known to child protection agencies. It said there had been "blatant" collective failures by the council's leadership.
Council leader Roger Stone said: "Having considered the report, I believe it is only right that I, as leader, take responsibility on behalf of the council for the historic failings that are described so clearly in the report and it is my intention to do so.
"For this reason, I have today agreed with my Labour group colleagues that I will be stepping down as leader with immediate effect."
Despite Stone's resignation, chief executive Martin Kimber said no council officers will face disciplinary action.
Prof Alexis Jay, who wrote the report, said she found examples of "children who had been doused in petrol and threatened with being set alight, threatened with guns, made to witness violent rapes and threatened they would be next if they told anyone".
Jay said: "They were raped by multiple perpetrators, trafficked to other towns and cities in the north of England, abducted, beaten and intimidated." She said she found girls as young as 11 had been raped by large numbers of men.
The report said failures of the political and officer leadership of Rotherham council over the first 12 years she looked at were blatant, as the seriousness of the problem was underplayed by senior managers and was not seen as a priority by South Yorkshire police. Jay said police "regarded many child victims with contempt".
These failures occured despite three reports between 2002 and 2006 "which could not have been clearer in the description of the situation in Rotherham".
She said the first of these reports was "effectively suppressed" because senior officers did not believe the data. The other two were ignored, she added.
The report said: "By far the majority of perpetrators were described as Asian by victims." But, she said, councillors seemed to think is was a one-off problem they hoped would go away and "several staff described their nervousness about identifying the ethnic origins of perpetrators for fear of being thought racist".
She added: "Others remembered clear direction from their managers not to do so."
The spotlight first fell on Rotherham in 2010 when five men, described by a judge as sexual predators, were given lengthy jail terms after they were found guilty of grooming teenage girls for sex. The prosecution was the first of a series of high-profile cases in the past four years that have revealed the exploitation of young girls in towns and cities including Rochdale, Derby and Oxford.
Following the 2010 case, the Times claimed that details from 200 restricted-access documents showed how police and child protection agencies in the South Yorkshire town had extensive knowledge of these activities for a decade, yet a string of offences went unprosecuted.
The allegations led to a range of official investigations, including one by the home affairs select committee.
Last year, the South Yorkshire police and crime commissioner, Shaun Wright, said there had been "a failure of management" at South Yorkshire police as he responded to a report into the force on this issue by Her Majesty's Inspectorate of Constabulary (HMIC).
The report concluded: "No one knows the true scale of the child sexual exploitation (CSE) in Rotherham over the years. Our conservative estimate is that approximately 1,400 children were sexually exploited over the full inquiry period, from 1997 to 2013."
In response, Rotherham council, which commissioned the report, said it accepted the findings, including the statement that failures "almost without exception" were attributed to senior managers in child protection services, elected councillors and senior police officers.
It accepted that failures were not down to "frontline social or youth workers who are acknowledged in the report as repeatedly raising serious concerns about the nature and extent of this kind of child abuse".
The council's chief executive, Kimber, said: "The report does not make comfortable reading in its account of the horrific experiences of some young people in the past and I would like to reiterate our sincere apology to those who were let down when they needed help."
"The report confirms that our services have improved significantly over the last five years and are stronger today than ever before.
"This is important because it allows me to reassure young people and families that, should anyone raise concerns, we will take them seriously and provide them with the support they need.
"However, that must not overshadow – and certainly does not excuse – the finding that for a significant amount of time the council and its partners could and should have done more to protect young people from what must be one of the most horrific forms of abuse imaginable."















































