Google+ page

بہت گہرا ہے اپنا تاجرانہ پیار آپس میں
کہ ہم کرتے ہیں سمجھوتوں کا کاروبار آپس میں

کبھی ٹکرا بھی جاتے ہیں جو برتن ساتھ رہتے ہیں
ہماری ہو بھی جاتی ہے کبھی تکرار آپس میں

یہاں دو سوختہ دل بھی اکٹھے رہ نہیں پاتے
جڑے رہتے ہیں لیکن سینکڑوں کہسار آپس میں

بہت روئیں گے سناٹے ،یہ گھر جب چھوڑ جاؤ گے
بہت باتیں کریں گے یہ در و دیوار آپس میں

انا کو بیچ میں آئندہ ہم آنے نہیں دیں گے
یہ طے کر لیں کھلے دل سے چلو اک بار آپس میں

وہی نازک گھڑی ہوتی ہے ساجد پر زمانے کی
جگہیں تبدیل جب کرتے ہیں پہرے دار آپس میں

               اعتبار ساجد


Post a Comment

Previous Post Next Post