Google+ page

جوتے چمکا کر خاندان کی کفالت کرنے والا باہمت بچہ



غربت نے افغانستان میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی سورج طلوع ہونے لے کر غروب ہونے تک کام کرنے پر مجبور کردیا ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں۔

اسکول جانے اور بچپن کی خوش باش زندگی کے برعکس یہ بچے سارا سارا دن سخت محنت کرکے کچھ روپے کمانے میں کامیاب ہوپاتے ہیں مگر وہ بھی ان کے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے۔


ان میں سے ہی ایک بچہ کابل کا رہائشی گیارہ سالہ سمیع اللہ بھی ہے جو جوتے پالش کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتا ہے— اے ایف پی فوٹو


یہ بچہ صبح سورج طلوع ہونے سے لے کر غروب ہونے تک مغربی کابل میں واقع اس قبرستان میں لوگوں کے جوتے پالش کرتا ہے— اے ایف پی فوٹو


دن بھر کام کرکے سمیع اللہ بمشکل روزانہ چار ڈالرز کے لگ بھگ کما پاتا ہے— اے ایف پی فوٹو






Post a Comment

Previous Post Next Post