Google+ page

حال ہم اپنا جو لوگوں پہ عیاں کر دیتے
سانس لینا بھی ہمارا وہ گراں کر دیتے

ڈھونڈنے وہ مجھے آیا ہی نہیں ہے ورنہ
رہنمائی مرے قدموں کے نشاں کر دیتے

شدتِ غم سے یہ ممکن تھا پگھل جاتا وہ
غم ترا گر کسی پتھر سے بیاں کر دیتے

غم کے موسم میں بُخارات کی صورت آنسو
دِل سے اٹھتے تو پھر آنکھوں میں دھواں کر دیتے

ہم نے اچھا ہی کیا اشک سنبھالے ورنہ
ساتھ دنیا کو بھی ہم گریہ کناں کر دیتے







Post a Comment

Previous Post Next Post