Google+ page

تیری آنکھیں تيری زلفیں تیرا شانہ دیکھوں
بارہا خواب میں منظر یہ سہانہ دیکھوں

لوگ سارے تو تیرے شہر کے دیوانے ہیں
میری خواہش ہے کہ میں تیرا زمانہ دیکھوں

ریت پہنی ہوئی مکّہ کی گزرگاہوں پر
نیچی نظروں سے تیرا غار میں جانا دیکھوں

تیرے کمبل سے تیرے جسم کی خوشبو سونگھوں
تجھ پہ اترا تھا جو حکمت کا خزانہ دیکھوں

تیرے  فاقوں  نے کئی دن کی کڑی بھوک کے بعد 
فاطمہ  کو جو کھلایا تھا وہ کھانا دیکھوں

حکم اللہ سے اس رات کی خاموشی میں
سوئے یثرب تجھے ہوئے میں روانہ دیکھوں

پائے صدیق  کو جس سانپ نے بار بار ڈسا 
میں اسی سانپ کا گمنام ٹھکانہ دیکھوں

دف بجاتے ہوئے ہاتھوں کی خوشی کو سمجھوں
تیری آمد پہ وہ دربار سجانا دیکھوں

جنگ خندق میں جو باندھے تھے وہ پتھر چوموں
اور مصیبت میں تیرا ساتھ نبھانا دیکھوں

ڈر کے دشمن تیرے خوف سے تھرّائیں مگر
معاف کرنے کا وہ انداز پرانا ديکھوں

چشم اطہر کو خدایا وہ بصارت دے دے
قبلہ رو ہو کے محمد والہﷺ  کو روزانہ دیکھوں۔

اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي
وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم 

اللھم ربنّا آمین

.....


Post a Comment

Previous Post Next Post