Google+ page

پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے
ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے

تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں
ان چراغوں نے میری نیند اُڑا رکھی ہے

کیوں نہ آجائے مہکنے کا ہُنر لفظوں کو
تیری چٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے

تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے
تونے خوشبو میرے لہجے میں بسا رکھی ہے

خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانوں
خاک صحراؤں کی ہم نے بھی اُڑا رکھی ہے
اقبال اشعر




Post a Comment

Previous Post Next Post