Google+ page

سنا ہے سال بدلا ہے سبھی دن رات بدلے ہیں
مگر ہندسہ بدلنے سے کہاں حالات بدلے ہیں

وہی ظالم مسلط ہیں مرے لوگوں پہ اب تک تو
کوئی چہرہ نہیں بدلا فقط صدمات بدلے ہیں

کوئی مرتا ہے مر جائے کسے اب فرق پڑتا ہے
نہ میرے شہر بدلے ہیں نہ ہی دیہات بدلے ہیں

ہیں میٹھے بول ہونٹوں پر مگر نفرت بھرا دل ہے
 نہیں بدلا کبھی دل کو فقط نغمات بدلے ہیں

ہزاروں لوگ مرتے ہیں ہزاروں گھر اجڑتے ہیں
وطن کو لوٹنے والے نہیں حرکات بدلے ہیں

ساحل محمود



Post a Comment

Previous Post Next Post