Google+ page

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے
یہ شاخ مجھ کو مری غم شناس لگتی ہے 

کسی کتاب کے اندر دبی ہوئی تتلی 
اُسی کتاب کا اک اقتباس لگتی ہے

وہ موت ہی ہے جو دیتی ہے سو طرح کے لباس 
یہ زندگی ہے کہ جو بے لباس لگتی ہے

تھی قہقہوں کی تمنا تو آ گئے آنسو 
خوشی کی آرزو غم کی اساس لگتی ہے

اٹھا کے دیکھ سرابوں کے آئینے کو ذرا 
ندی کے پاس بھلا کس کو پیاس لگتی ہے




Post a Comment

Previous Post Next Post