Google+ page

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غمِ دنیا بھی غمِ ےار میں شامل کر لو
نشّہ بڑھتا ہے شرابیں جب شرابوں میں ملیں

تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا!
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ ہم کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخّص تمنا کے سرابوں میں ملیں

(احمد فراز)






Post a Comment

Previous Post Next Post