Google+ page

آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
 دل جس سے مل گیا وہ دوبارہ نہیں ملا
 آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور
 خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا
 بجھ گیا شام حرم باب کلیسا نہ کھلا
 گل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلا
 چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
 ہم اُس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ
 گریہ تو اکثر رہا پیہم رہا
پھر بھی دل کے بوجھ سے کچھ کم رہا
 دیوانے کو تکتی ہیں تیرے شہر کی گلیاں
 نکلا تو اِدھر لوٹ کے بدنام نہ آیا
 مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے
 یہ دیکھ کہ تجھ پر کوئی الزام نہ آیا
 میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
 تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آئو
 میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
 قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ
 زوال عشق میں سوداگروں کا ہاتھ تو دیکھ

مصطفی زیدی





Post a Comment

Previous Post Next Post