Google+ page

فقط یہی نہیں ہوا کہ فیصلہ بدل گیا
دلیل کارگر ہوئی تو ضابطہ بدل گیا
مرا رفیق بن گیا فریق ساتھ چھوڑ کر
مسل وہیں دھری رہی مقدمہ بدل گیا
گلی تو اس کی ڈھونڈ لی تھی شہرِ بے لحاظ میں
مگر گواہِ چشم دید کا پتا بدل گیا
وہی ہے مدعا مرا، وہی ہے بے رخی تری
ذرا زبان اور ہے، محاورہ بدل گیا
سوالِ وصلِ یار تشنہِ جواب ہے ابھی
جو ایک مہرباں ہوا تو دوسرا بدل گیا
وہی ہے راستہ مرا, وہی ہیں اس کے پیچ وخم
وہی ہے منزلِ مراد, قافلہ بدل گیا
شکست و فتح اک طرف, ثبات میں کمی نہیں
وہی محاذ آج بھی ہے مورچہ بدل گیا
رمل جفر پہ یاسر انحصار کس لیے کروں
نصیب خود ہی لکھ لیا تو زائچہ بدل گیا





Post a Comment

Previous Post Next Post