Google+ page

نظر میں ڈھل کے ابھرتے ہیں دل کے افسانے 
یہ اور بات ہے دنیا نظر نہ پہچانے 

وہ بزم دیکھی ہے میری نگاہ نے کہ جہاں 
بغیر شمع بھی جلتے رہے ہیں پروانے 

یہ کیا بہار کا جوبن یہ کیا نشاط کا رنگ 
فسردہ میکدے والے اداس مے خانے 

مرے ندیم تری چشم التفات کی خیر 
بگڑ بگڑ کے سنورتے گئے ہیں افسانے 

یہ کس کی چشم فسوں ساز کا کرشمہ ہے 
کہ ٹوٹ کر بھی سلامت ہیں دل کے بت خانے 

نگاہ ناز میں دل سوزیٔ نیاز کہاں 
یہ آشنائے نظر ہیں دلوں کے بیگانے 

صوفی تبسم




Post a Comment

Previous Post Next Post