Google+ page

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا 
محبتوں کا شجر بے ثمر نہیں ہوتا 

پھر اس کے بعد کئی لوگ مل کے بچھڑے ہیں 
کسی جدائی کا دل پر اثر نہیں ہوتا 

ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک منزل ہے 
کوئی کسی کا یہاں ہم سفر نہیں ہوتا 

تمام عمر گزر جاتی ہے کبھی پل میں 
کبھی تو ایک ہی لمحہ بسر نہیں ہوتا 

یہ اور بات ہے وہ اپنا حال دل نہ کہے 
کوئی بھی شخص یہاں بے خبر نہیں ہوتا 

عجیب لوگ ہیں یہ اہل عشق بھی اخترؔ 
کہ دل تو ہوتا ہے پر ان کا سر نہیں ہوتا 

شاعر اختر امان




Post a Comment

Previous Post Next Post