Google+ page

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے 
سب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے

ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی 
سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے

سودا تری زلفوں کا گیا ساتھ ہمارے 
مر کر بھی نہ چھوٹے وہ گرفتار ہمیں تھے

کل رات کو دیکھا تھا جسے خواب میں تم نے 
رخسار پہ رکھے ہوئے رخسار ہمیں تھے

دل سوختہ تھے چاہنے والوں میں تمہارے 
لیکن سبب گرمئ بازار ہمیں تھے

کل کوچۂ قاتل میں جو تھا خلق کا مجمع 
کھائے ہوئے اس ہاتھ کی تلوار ہمیں تھے

اے عشق مژہ کون ہمیں دیکھنے آتا 
آنکھوں میں کھٹکتے تھے وہ بیمار ہمیں تھے

تربت میں بھی آنکھیں نہ ہوئیں بند ہماری 
ایسے ترے اک طالب دیدار ہمیں تھے

ٹھنڈے کئے غیروں کے دل اور ہم کو جلایا 
اک تھے تو محبت کے گنہ گار ہمیں تھے

ملتے ہی لب یار سے لب دل نکل آیا 
مارا جسے عیسیٰ نے وہ بیمار ہمیں تھے

تم غیروں سے ڈر ڈر کے لپٹ جاتے تھے پیہم 
کل رات کو نالاں پس دیوار ہمیں تھے

سب راز تعشقؔ سے بیاں ہوتے تھے دل کے 
پہلے ترے اک محرم اسرار ہمیں تھے







Post a Comment

Previous Post Next Post