Google+ page

کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھول جاتا ہے 
کوئی کتنا ہی پیارا ہو زمانہ بھول جاتا ہے 

کسی دن بے نیازی اس کی مجھ کو مار ڈالے گی 
خفا کرتا ہے وہ لیکن منانا بھول جاتا ہے 

رخ روشن پہ زلفوں کا یہ گرنا جان لیوا ہے 
اور اس پر یہ ستم دلبر ہٹانا بھول جاتا ہے 

اگر ہے بھولنا مجھ کو کسی سے پیار کر لینا 
نیا بنتا ہے جب رشتہ پرانا بھول جاتا ہے 

اسی باعث میں سینے سے اسے اڑنے نہیں دیتا 
یہ دل ایسا پرندہ ہے ٹھکانا بھول جاتا ہے 

ہمیں ہے وصل کی خواہش مگر یہ کام دنیا کے 
میں جانا بھول جاتا ہوں وہ آنا بھول جاتا ہے 

کسی سے کیا کروں شکوہ ملے ہیں زخم ہی ایسے 
کہ جن پر وقت بھی مرہم لگانا بھول جاتا ہے 

کوئی آسیب ہے شاید تمہارے شہر میں ثانیؔ 
یہاں پہ رہنے والا مسکرانا بھول جاتا ہے 

شاعر : سہیل ثانی






Post a Comment

Previous Post Next Post