Google+ page

وہ تو ہر چاہنے والے پہ فدا لگتا ہے 
جانے کس کس کا ہے جو مجھ کو مرا لگتا ہے 

اس نے قدموں میں سجا رکھے ہیں امید کے پھول 
دیکھنے والوں کو جو آبلہ پا لگتا ہے 

اب نہ سن پائے گا وہ میری صدائیں شاید 
وہ کہیں دور بہت دور گیا لگتا ہے 

پر جو پھیلاتا نہیں خوف سے اپنے پنچھی 
تازہ تازہ کسی پنجرے سے اڑا لگتا ہے 

یہ جو ہم جیسا ہی انسان ہے انسان ابھی 
اس کو مسند پہ بٹھا دیں تو جدا لگتا ہے 

میں بھلا دیتا ہوں ہر بار جفائیں اس کی 
جب بھی سینے سے مرے ٹوٹ کے آ لگتا ہے 

آؤ اس پیار کو ہم آخری پرسہ دے دیں 
اس طرح چھوڑ کے جانا تو برا لگتا ہے 






Post a Comment

Previous Post Next Post