Google+ page

پرندے جا چکے ہیں کب کے گھونسلوں کو بھی
بتائے رستہ کوئی ہم مسافروں کو بھی

میں جانتا ہوں کہ اک دن ہمیں بچھڑنا ہے
سنبھال رکھا جبھی تو ہے آنسوؤں کو بھی

ابھی تو دور ہے منزل کہ کاٹنی ہیں ابھی
ملی جو ورثے میں ہیں ان مسافتوں کو بھی

کہاں وہ وقت ہواؤں پہ حکم چلتا تھا
اور اب یہ حال ترستے ہیں آہٹوں کو بھی

عجب ہیں ہم کہ بنانا مکان کچا ہی
اور اہتمام سے گھر لانا بارشوں کو بھی

سبھی لگے ہیں جو پیوند کرنے شاخوں کو
کسی نے دیکھا ہے دیمک زدہ جڑوں کو بھی

جلیل حیدر لاشاری...




Post a Comment

Previous Post Next Post