Google+ page

اپنی اپنی یہاں پہ ذات ہیں سب
میں سمجھتا تھا میرے ہاتھ ہیں سب

لوٹ کر خود بھی وہ نہیں آیا
وہ جو کہتا تھا تیرے ساتھ ہیں سب

یہ محبت یہ روشنی خوشبو
عمرِ رفتہ کے حادثات ہیں سب

جس سے ملئے سبق نیا لیجے
کیا حسیں لوگ واردات ہیں سب

میرا کردار ہی کہانی ہے
باقی کردار واقعات ہیں سب

آپ اک آپ آپ ہی بس آپ
کتنے دل کش معاملات ہیں سب

حالتِ عشق میں سکون بھی ہو
یہ خیالات واہیات ہیں سب

کارِ آساں نہیں حیات مری
میرے حصے میں سومنات ہیں سب

دل پہ مت لیجئے ارے ابرک
سانس تک ہی تو مشکلات ہیں سب

⇐⇐⇐⇐ اتباف ابرک

اضافی اشعار

ساتھ کوئی نہیں تو غم کیسا
یہی کافی نہیں حیات ہیں سب

کون بنتا ہے دنیا اب کسی کی
اپنی اپنی ہی کائنات ہیں سب

ایک میں ہی ہوں راہ کا پتھر
بیش قیمت نوادرات ہیں سب






Post a Comment

Previous Post Next Post