Google+ page

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے 
وہ اندیشے تھے رنگ آنکھوں کے گہرے کر لیے ہم نے 

خدا کی طرح شاید قید ہیں اپنی صداقت میں 
اب اپنے گرد افسانوں کے پہرے کر لیے ہم نے 

زمانہ پیچ اندر پیچ تھا ہم لوگ وحشی تھے 
خیال آزار تھے لہجے اکہرے کر لیے ہم نے 

مگر ان سیپیوں میں پانیوں کا شور کیسا تھا 
سمندر سنتے سنتے کان بہرے کر لیے ہم نے 

وہی جینے کی آزادی وہی مرنے کی جلدی ہے 
دوالی دیکھ لی ہم نے دسہرے کر لیے ہم نے 

ساقی فاروقی

Post a Comment

Previous Post Next Post