Google+ page

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیئے
خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیئے

گھر سے چلے تھے ھم تو خوشی کی تلاش میں
غم راہ میں کھڑے تھے وھی ساتھ ھو لیئے

مرجھا چکا ھے پھر بھی یہ دل پھول ھی تو ھے
اب آپکی خوشی اسے کانٹوں میں تولیئے 

ھونٹوں کو سی چکے تو زمانے نے یہ کہا
یہ چپ سی کیوں لگی ھے اَجی کچھ تو بولیئے

یوں حسرتوں کے داغ محبت میں دھو لیئے
خود دل سے دل کی بات کہی اور رو لیئے

شاعر : راجندر  کرشن 


Post a Comment

Previous Post Next Post