Google+ page

اچھی ہوں یا بری ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
نظروں میں تیرے کیا ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
کیا تجھ میں ڈھونڈھتی ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
میں تیری ہوگئ ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
آگاہ ہوں میں منزل مقصود سے مگر
کس سمت جا رہی ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
آواز دے رہا ہے مجھے کون بار بار
کس کے لیے رکی ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
اتنا مجھے پتا ہے تمہیں ہوں عزیز میں
لیکن تمہاری کیا ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے جو کون ہے
کس غم میں گھل رہی ہوں مجھے کچھ نہیں پتا
میں خوب جانتی ہوں یہ منزل نہیں مری
آ کر کہاں رکی ہوں مجھے کچھ نہیں پتا

Post a Comment

Previous Post Next Post