Google+ page

عشق کے ماروں کو کورا بدن یاد نہیں


عشق کے ماروں کو کورا بدن یاد نہیں

جیسے اس روح کو من کا چمن یاد نہیں


تم یہ غفلت میں پڑھے ہو کیوں مورکھ بتلاٶں

تم کو کیونکر یہ ترا ہی کفن یاد نہیں


کون جیتا ہے محبت میں اور مرتا ہے کون

عشق والوں کو محب کا زمن یاد نہیں


اجنبی میں ہوں وطن میں مرا کوٸی نہیں

میں مسافر ہوں مجھے وہ وطن یاد نہیں


تو عبادت میں مگن اور ھو میں گُم ہو اَمیر

لوگ سمجھے یہ مگن کو مگن یاد نہیں


وہ ہمارا ہے سجن ہم بھی تو اس کے سجن

بات بگڑی کہ سجن کو سجن یاد نہیں


روز ہنگام مرے سامنے ہوتے نہیں

میری ان آنکھوں کو برما یمن یاد نہیں


سب برابر ہیں سبھی علم والے سنو پر

یہ علم والوں کو ہی انجمن یاد نہیں


تیز طوفان اڑا کر ہوا چلا کہِ

یہ ہوا کی سی سنا سن سنن یاد نہیں


میں محبت کے علم میں پَلا ہوں اے جناب

تیری نفرت کا ہمیں یہ زمن یاد نہیں


تشنہ لب پر ہی نظر ڈال ساقی پِلا دے

تم کو مے خانہ میں کیا دل شکن یاد نہیں


یہ جو دنیا ہے بہت ظلم ڈھاتی ہے مگر

أس جہاں کو بھی قیامت کا دن یاد نہیں


روشنی ہونے نہیں دیتے یہ زیست میں لوگ

تم کسی کہکشاں کے ہو رُکن یاد نہیں


رند انساں ہوں تری بزم کا یار میں بھی

بزمِ رنداں میں چھپا ہم سخن یاد نہیں

شاعر امیر عثمان


Post a Comment

Previous Post Next Post