Google+ page

مجھ سے کہتا ہے کبھی دل میں ملال آتے ہیں
کیسے کیسے میرے دشمن کو سوال آتے ہیں

یہ جو ہم روتے ہیں چھپ کر کبھی تنہائی میں
رفتہ رفتہ تجھے آنکھوں سے نکال آتے ہیں

ہم محبت پے بھی احسان کوئی رکھتے نہیں
نیکیاں کرتے ہیں دریاؤں میں ڈال آتے ہیں

بس اسی خوف سے سوئے نہیں اک مدت سے
ہجر ملتا ہے اگر خواب وصال آتے ہیں

پھول کھل جائیں تو اس شخص سے کم کم ملنا
..ایسے موسم میں محبت پے زوال آتے ہیں

See more at: http://www.myvoicetv.com/


Post a Comment

Previous Post Next Post