ثنا خوانوں کی سازش ہے یقینا، بُرا ہر دور میں اچھا رہا ہے
لکیریں ہاتھ کی وِیران ہیں اب،کبھی اِن میں تِرا چہرہ رہا ہے


Post a Comment

Previous Post Next Post