بھری محفل میں وہ تنہا رہا ہے،کہ جس دل کو تِرا سودا رہا ہے
کِیا ہے جس نے مذہب عشق اپنا،زمانے بھر میں وہ رُسوا رہا ہے


Post a Comment

Previous Post Next Post