Google+ page


کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں 
ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں 

موسمِ گل ہو کہ پت چھڑ ہو بلا سے اپنی 
ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں 

ہم سے مخفی نہیں کچھ راہگزرِ شوق کا حال 
ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں 

ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزا ہی کچھ اور 
ایسی لذّت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں 

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے 
ہم بھی ایسی ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں 

موسم کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو 
کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں

شاعر احمد مشتاق

Post a Comment

Previous Post Next Post