خوبصورت شاعری : وہ جذبوں کی تجارت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا​

وہ جذبوں کی تجارت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا​
اسے ہنسنے کی عادت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا​

مجھے اس نے کہا آؤ نئی دنیا بساتے ہیں​
اسے سوجھی شرارت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا​

ہمیشہ اسکی آنکھوں میں دھنک سے رنگ ہوتے تھے​
یہ اسکی عام حالت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا​

وہ میرے پاس بیٹھا دیر تک غزلیں میری سنتا​
اسے خود سے محبت تھی یہ دل کچھ اور سمجھا تھا​

میرے کاندھے پہ سر رکھ کے کہیں پہ کھو گیا تھا وہ​
یہ اک وقتی عنائیت تھی ، یہ دل کچھ اور سمجھا تھا​






SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: