اردو شاعری : ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا

ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا
میں ڈوب رہا ہوں ابھی، ڈوبا تو نہیں ہوں

اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں
ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں

چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوں
مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں

مضطر کیوں مجھے دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی ان کا تماشا تو نہیں ہوں

(آفتاب مضطر)





SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: