Google+ page

ساحل پہ کھڑے ہو تمہیں کیا غم چلے جانا
میں ڈوب رہا ہوں ابھی، ڈوبا تو نہیں ہوں

اے وعدہ فراموش میں تجھ سا تو نہیں ہوں
ہر ظلم ترا یاد ہے بھولا تو نہیں ہوں

چپ چاپ سہی مصلحتاً وقت کے ہاتھوں
مجبور سہی وقت سے ہارا تو نہیں ہوں

مضطر کیوں مجھے دیکھتا رہتا ہے زمانہ
دیوانہ سہی ان کا تماشا تو نہیں ہوں

(آفتاب مضطر)




Post a Comment

Previous Post Next Post