Google+ page

ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتے

کچھ ایک خواب تو شب خون سے بچا لاتے

زیاں تو دونوں طرح سے ہے اپنی مٹی کا

ہم آب لاتے کہ اپنے لیے ہوا لاتے

پتہ جو ہوتا کہ نکلے گا چاند جیسا کچھ

ہم اپنے ساتھ ستاروں کو بھی اٹھا لاتے

ہمیں یقین نہیں تھا خود اپنی رنگت پر

ہم اس زمیں کی ہتھیلی پہ رنگ کیا لاتے

بس اور کچھ بھی نہیں چاہتا تھا میں تم سے

ذرا سی چیز تھی دنیا کہیں چھپا لاتے

ہمارے عزم کی شدت اگر سمجھنی تھی

تو اس سفر میں کوئی سخت مرحلہ لاتے

 ابھیشیک شُکلا





Post a Comment

Previous Post Next Post