سِتاروں سے آگے جَہاں اور بھی ہیں :مکمل نظم پڑھنے کے لئے لنک کھولیں

سِتاروں سے آگے جَہاں اور بھی ہیں

سِتاروں سے آگے جَہاں اور بھی ہیں
ابھی عِشق کے اِمتِحاں اور بھی ہیں

تِہی زِندگی سے نہیں یہ فِضائیں
یہاں سَیکڑوں کارواں اور بھی ہیں

قَناعت نہ کر عالمِ رنگ و بُو پر
چَمَن اور بھی، آشیاں اور بھی ہیں!

اگر کھوگیا ایک نشیمن تو کیا غم
مَقاماتِ آہ و فُغاں اور بھی ہیں!

تُو شاہِیں ہے، پَرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اِسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

گئے دِن کہ تنہا تھا میں انجُمن میں
یہاں اب میرے رازداں اور بھی ہیں!

علامہ اقبال ​




SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

1 comment: