پاناما کیس کے فیصلے اور نوازشریف، اسحاق ڈار اور دیگر کی نا اہلی کے بعد عمران خان کی دبنگ پریس کانفرنس : کیا کہا جاننے کے لیے دیکھیے

پاناما کیس کے فیصلے اور نوازشریف، اسحاق ڈار اور دیگر کی نا اہلی کے بعد عمران خان کی دبنگ پریس کانفرنس : کیا کہا جاننے کے لیے دیکھیے




پاناما کیس کے فیصلے اور نوازشریف، اسحاق ڈار اور دیگر کی نا اہلی کے بعد عمران خان کی دبنگ پریس کانفرنس : کیا کہا جاننے کے لیے دیکھیے





پاناما کیس کے فیصلے اور نوازشریف، اسحاق ڈار اور دیگر کی نا اہلی کے بعد عمران خان کی دبنگ پریس کانفرنس : کیا کہا جاننے کے لیے دیکھیے

حقیقت سے قریب ترین، شاہد مسعود کے تجزیے، دھبڑ دوز تو ہوکر رہ گیا، اب آگے کیا ہونے والا ہے، نوازشریف کی نااہلی کے بعد 28 جولائی 2017 کا پروگرام دیکھیے

حقیقت سے قریب ترین، شاہد مسعود کے تجزیے، دھبڑ دوز تو ہوکر رہ گیا، اب آگے کیا ہونے والا ہے، نوازشریف کی نااہلی کے بعد 28 جولائی 2017 کا پروگرام دیکھیے

حقیقت سے قریب ترین، شاہد مسعود کے تجزیے، دھبڑ دوز تو ہوکر رہ گیا، اب آگے کیا ہونے والا ہے، نوازشریف کی نااہلی کے بعد 28 جولائی 2017 کا پروگرام دیکھیے


مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی

مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی

اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی
مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی

خدا جانےگریباں کس کے ہیں اورہاتھ کس کے ہیں
اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی

مری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آئوں
بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی

خیالوں میں ہمیشہ اس غزل کو گنگناتا ہوں
کہ جو کاغذ کے چہرے پر کبھی لکھی نہیں جاتی

وہی رستے، وہی رونق، وہی ہیں عام سے چہرے
نوید آنکھوں کی لیکن پھر بھی حیرانی نہیں جاتی

اقبال نوید


Coca-Cola profits fall as it touts healthier drinks

Coca-Cola profits fall as it touts healthier drinks

NEW YORK: Coca-Cola saw profits drop sharply due to sales of bottling facilities as it moved to expand offerings of low-sugar and non-carbonated beverages amid flagging demand for sweet sodas, the company said Wednesday. 

Net income for the US soft drinks giant plunged 60 percent in the second quarter to $1.4 billion, while revenues fell 16 percent to $9.7 billion. Both were hit by the company's move to offload bottling assets in North America. 

Sales volume grew for three of four beverage categories: juice, dairy and plant-based beverages; water, enhanced water and sports drinks; and tea and coffee. 

But volumes were flat in sparkling drinks. 

Chief executive James Quincey said Coca-Cola's efforts to meet consumer demand for non-sweet and healthier offerings were on track. 

Coca-Cola Zero Sugar grew strongly in Europe, Middle East, Africa and Latin America. The company launched new orange juice products in China and expanded its "Innocent" brand of smoothies and premium juices in Western Europe. 

"Our performance gives us confidence that we will achieve our full year financial objectives even in the face of challenging conditions, and also demonstrates further success in evolving our portfolio to meet changing consumer tastes and preferences," Quincey said. 

Shares of Coca-Cola dipped 0.5 percent to $45.01 in pre-market trading. 



اپنے سگے انکل سے حاملہ ہونے والی 10 بچی کو سپریم کورٹ نے حمل گرانے کی اجازت نہیں دی

اپنے سگے انکل سے حاملہ ہونے والی 10 بچی کو سپریم کورٹ نے حمل گرانے کی اجازت نہیں دی

بھارتی درندے

اپنے سگے انکل سے حاملہ ہونے والی 10 بچی کو سپریم کورٹ نے حمل گرانے کی اجازت نہیں دی، حمل کو کتنا عرصہ ہوا ہے جاننے کے لئے پڑھیں


NEW DELHI:  A 10-year-old raped by her uncle will not be allowed to have an abortion, the Supreme Court ruled today, rejecting the petition by a Supreme Court lawyer. The court said it was basing its decision on the assessment of doctors who said that a medical termination was not safe either for the girl or the foetus. She is 32 weeks pregnant.

The court had earlier this week asked doctors at Chandigarh's PGI to examine the girl to see if an abortion was safe. It has today ordered that proper medical care be provided to the girl child.

The law does not allow medical terminations after 20 weeks unless there is a threat to the mother's life. Advocate Alak Alok moved the Supreme Court after the appeal to abort the then 26-week foetus was rejected by a lower court, despite warnings that the child's body was not ready for childbirth.

Her pregnancy was only discovered recently after her parents took her to hospital when she complained of stomach pain. They discovered that the girl had been repeatedly raped by her uncle over seven months.

There have been several pleas in courts from rape survivors seeking permission to terminate pregnancies following abuse. In many cases, the women only discovered they were pregnant when late in their term.

In May this year, the Supreme Court had allowed a 10-year-old rape survivor from the Haryana to abort her nearly 21-week foetus.

The country has a grim record of sexual assaults on minors with 20,000 cases of rape or sexual assaults reported in 2015, according to government data. A UN Committee on the Rights of the Child in 2014 said one in three rape victims in India was a minor and expressed alarm at the widespread sexual abuse of children.

Almost 50 per cent of the abusers are known to the victims. Sex -- whether consensual or otherwise -- with a person aged below 18 is considered rape in India۔

NDTV


حضرت عزرائیل علیہ السلام کے دل میں کس پر رحم آیا : مکمل پڑھیں

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے دل میں کس پر رحم آیا : مکمل پڑھیں

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے دل میں کس پر رحم آیا : مکمل پڑھیں

ایک دفعہ اللہ رب العزت نے حضرت عزرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تجھے کسی کی جان قبض کرتے ہوئے کبھی رحم آیا۔
حضرت عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا الٰہی میرا ہر ایک کی روح قبض کرتے ہوئے دل دُکھتا ہے مگر آپ کے حکم کی سرتابی کی مجال نہیں۔ہاں ایک ایسا واقعہ گزرا ہے جس کا دُکھ میں ابھی تک بھلا نہ سکا وہ غم تنہائی میں بھی میرے ساتھ رہتا ہے۔

عرض کیا کہ ایک جہاز سمندر میں سفر کر رہا تھا۔ وہ آپ کے حکم سے بھنور میں پھنس گیا۔تھوری دیر بعد وہ جہاز تباہ ہوگیا۔جہاز میں سوار کئی مسافر غرق ہو گئے جو مسافر بچے ان میں ایک ماں اور اس کا نوازئیدہ بچہ جو تباہ شدہ جہاز کے ایک تختے پر سمندر کی لہروں میں آپ کے رحم و کرم پر بہے چلے جا رہے تھے۔تیز ہوا نے انہیں سینکڑوں میل دور سمندر کے کنارے پہنچا دیا۔میں ماں اور بیٹے کے بچ جانے پر بہت خوش ہوا اسی لمحے آپ کا حکم ہوا ماں کی روح قبض کرلو ۔ مولا کریم میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی یا باری تعالیٰ آپ خوب جانتے ہیں کہ یہ حکم پاکر میرا کلیجہ کانپ گیااور جب مین نے اس طفلِ شیر خوار کو ماں سے الگ کیا تو مجھے کس قدر تکلیف پہنچی تھی۔ پھر حکمِ الٰہی ہوا کیا تجھے معلوم ہے کہ بعد میں وہ بچہ کہاں اور کس طرح پر ورش پاتا رہا؟
عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ عالم الغیب ہیں ظاہر اور باطن آپ پر عیاں ہیں ۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہم نے موجِ سمندر کو حکم دیا کہ اس لاوارث بچے کو اُٹھاکر ساحل پر ڈال دے۔ ساحل کے قریب ایک سرسبز و شاداب جزیرہ تھا۔ ہم نے پھولوں کو حکم دیا کہ بچے کے نیچے سیج بچھادیں۔ سورج سے کہا اپنی تیز شعاوں سے بچے کو محفوظ رکھنا۔ بادل کو کہا بچے سے ذرا فاصلے پر برسے، درختوں کی شاخیں خود بخود جھک کر پھل اور ان کا رس اس کے منہ میں دال دیتی تھیں۔ جزیرے میں ایک شیرنی کی ہم نے ذمہ داری لگادی وہ روزانہ اسے دودھ پلاتی شیرنی کے خوف سے بچے کے پاس کوئی جانور نہیں آسکتا تھا۔ اس جزیرے میں ہم نے خوش نوا اور ھسین پرندے بھیجے جو ہر وقت چہچہاتے تاکہ بچے کا دل پریشان نہ ہو۔ ہوا کو حکم دیا کہ اس بچے پر آہستہ آہستہ سے گزرے تاکہ اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
اے عزرائیل علیہ السلام ! وہ تنہا اور بظاہر بے یارومددگار بچہ پرورش پاکر خو ب صحت مند اور بہادر ہوگیا۔ ہم نے اس کے پاؤں میں کبھی کانٹا بھی نہ چبھنے دیا۔ دنیا کی دنیا کی تمام نعمتیں اسے عطا کیں۔ ایک بادشاہ شکار کھیلتے ہوئے اُدھر آنکلا وہ خوبصورت اور صحت مند بچے دیکھ کر بہت خوش ہوا اسے اٹھا کر اپنے محل لے گیا ان کے ہاں اولاد نہ تھی انہوں نے اسے اپنا بیتا بنا لیا۔ بادشاہ کی موت کے بعد وہ اکیلا تخت و تاج کا مالک بن گیا۔ غرور و تکبر سے ہمارے بندوں پر ظلم کرنے لگا، ایسا سرکش نکلا کہ خود ہی خدا بن بیٹھا، اپنے بُت بنوا کر انہیں سجدے کرانے لگا۔ خاک کا فانی پتلا ہمارا شریک بن بیٹھا آخر ہم نے اس کی بہتری کے لیے اپنے خلیل ابراھیم علیہ السلام کو اس کے پاس بھیجا اس ظالم نے ہمارے پیارے کو بھی آگ میں پھینک دیا۔ اے عزرائیل علیہ السلام ! اس بطے نے میرا کیا شکریہ ادا کیا؟ وہ بچہ نمرود بن کر اس وقت ایک بڑے ملک کا بادشاہ ہے اور اسی نے میرے خلیل ابراھیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں جھونکا ہے اور اب خدائی کا دعوہ کرکے لوگوں کو میری راہ سے ہٹاتا ہے اور حکم نہ ماننے والوں کو سخت سزا دیتا ہے۔

عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے مخلوقات کے کالق میں اس سرکش بچے کی حالت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے دل میں خیال اور ملال لاتا رہا۔آپ کے راز آپ ہی جانیں۔

سبق کیا ملا: اے خدا کے بندے تواپنی اصلاح کرلے ،نفس کو قیدو بند میں رکھ ۔ نفس یقیناََ ایک خونی درندے کی مانند ہے اگر یہ احسان فراموش ہو جائے تو مثلِ نمرود بن جاتا ہے۔

(حکایات رومی، حکایت نمبر34ص:143)​





Jubilee Life Insurance and Omar Associates, honored Pakistan’s national champions

Jubilee Life Insurance and Omar Associates, honored Pakistan’s national champions

Jubilee Life Insurance in partnership with Omar Associates, honored Pakistan’s national champions Sarfraz Ahmed, Rumman Raees, Fakhar Zaman and Hasan Ali

Karachi, July 27, 2017: Jubilee Life Insurance Company Limited, the leading insurance company of Pakistan, in partnership with Omar Associates, honored Pakistan’s national champions Sarfraz Ahmed, Rumman Raees, Fakhar Zaman and Hasan Ali from the winning team of the ICC Champions Trophy 2017 along with recently retired great Younis Khan in an event held at a local hotel. 

Pakistan’s victory at the ICC Champions Trophy 2017 has been the most talked about event for the country this year and rightly so. The team that ranked World’s eighth, fought valiantly against some of the world’s strongest teams and came out victorious in what was an incredible display of perseverance, focus and sheer resolution. 

The gala ceremony – intended to commend the spirit of the triumphant players and the team – was tagged “HEROES.VICTORS.CHAMPIONS!” where honourable Governor Sindh  Muhammad Zubair was the chief guest and squash legend Jahangir Khan as well as a number of former Pakistani cricketers attended the event. The ceremony was hosted by Dr. Noman Niaz and well known Journalist Sidra Iqbal while former cricketers Rashid Latif, Shoaib Ahmed, Tauseef Ahmed were also present.

The 40-year-old former Pakistani cricket captain Younis Khan was honoured for his overall outstanding performance and was decorated with a gold medal and a cash reward for his praiseworthy services for cricket. 

Mr. Nadeem Omar, owner of Omar Associates and founder of Quetta Gladiators franchise paid tribute to all legends including Jahangir, Younis, Sarfraz, Rumman, Fakhar and Hasan. Later Jahangir and Younis lauded the Champions in their speeches respectively. Quetta Gladiators’ players Kevin Pietersen, Luke Wright and Azhar Ali also paid tributes to Sarfraz and Quetta Gladiators management through video messages. 

Sarfraz presented Mr. Javed Ahmed, MD and CEO, Jubilee Life, with a memorabilia for his support to Quetta Gladiators in the PSL 2017.

Speaking to the audience, Mr. Javed Ahmed said, “I would like to appreciate Sarfraz Ahmed and team for their marvellous victory in ICC Champions trophy. Sarfraz showed his winning spirit and extraordinary leadership for leading the team to victory in the Champions trophy. I would like to wish a very good luck to our cricket team in all formats of cricket in the future and bring glory to Pakistan.”

To conclude the evening, famous singer Faakhir Mehmood gave an outstanding performance and sung the Quetta Gladiators’ theme song.

Jubilee Insurance is a global brand of Aga Khan Fund for Economic Development (AKFED) that offers diverse insurance solutions (life, health and general) in the Asian and East African markets. Jubilee Life in Pakistan offers uniquely designed range of life and health insurance plans, catering to various customer segments and needs. These include retirement, child education, marriage, saving & protection, wealth accumulation, life insurance plans for women, rural insurance plans and life and health insurance solutions for the less privileged of our country.


EBM sponsors 16th Young Leaders Conference

EBM sponsors 16th Young Leaders Conference

Karachi: A legacy of almost 50 years of excellence, Pakistan’s leading biscuit manufacturing company, English Biscuit Manufacturers (Private) Limited have been the founding partners of School of Leadership premiere annual event – the Young Leaders Conference consecutively for the past 16 years. This event spanning over six days is planned to take place in Karachi starting from Wednesday, July 26, 2017. The theme for YLC this year is ‘300’ honoring youth who are awakened, imaginative, disciplined and dynamic.

Talking about the YLC theme, Dr. Zeelaf Munir, CEO and MD at EBM said, 
“We want the youth to understand that strength isn’t always in numbers. Like the 300 Spartans who understood the key to success; to never surrender but stand dignified when faced with adversity. The world’s biggest challenges are in fact opportunities and our youth understands this and needs visionary leadership. EBM’s message this year to our youth is ‘Rise to Glory’. We believe youth are the true harbingers of change and success as our country’s future belongs to them. We strongly believe in SOL’s philosophy of enabling the youth to help them grow and become better leaders."


اتر چکے ہو سمندر میں حوصلہ رکھنا

اتر چکے ہو سمندر میں حوصلہ رکھنا

اتر چکے ہو سمندر میں حوصلہ رکھنا
ہوا چلے نہ چلے بادباں کھلا رکھنا

کبھی نہ جلتے چراغوں کا سلسلہ ٹوٹے
جو ایک بجھنے لگے ساتھ دوسرا رکھنا

یہی کمال ہے بارش میں بھیگتے رہنا
اور اپنے جسم کی مٹی کو بھی بچا رکھنا

حدود ذات کے اندر نہ کوئی جھانک سکے
تعلقات میں اک ایسا فاصلہ رکھنا

کہیں پہ دونوں کنارے ضرور ملتے ہیں
بس اپنے آپ کو دریا میں تم بہا رکھنا

اقبال نوید





#OPPO Releases TVC to Celebrate its Association with Spider-Man

#OPPO Releases TVC to Celebrate its Association with Spider-Man

Peter Parker’s life changes when he’s bitten by a spider, turning an ordinary high-school going teenager into Spider-Man. When the public starts getting curious about the masked crime fighter in his blue and red costume, Peter sees an opportunity and starts taking his own photographs and sells them to The Daily Bugle, the fictional newspaper, to make money as a freelance journalist. OPPO Releases TVC to Celebrate its Association with Spider-Man.
OPPO Releases TVC to Celebrate its Association with Spider-Man





Although the comics or the movies never show how Peter manages to click his photos with the old cameras of yesteryears (After all Spider-Man’s been our hero for 50+ years) we’re sure Spidey had a few tricks up his spandex sleeves and knew how to take selfies long before the term ‘selfie’ itself was invented. He’s not a superhero for nothing!

But for us common folk, thankfully, we have OPPO smartphones to help us take superior quality selfies we can proudly share with the world.

For the last ten years, OPPO has been focusing on manufacturing top-quality camera phones using innovating mobile photography technology breakthroughs. OPPO was the first brand to launch smartphones with 16MP front cameras.  And it was also the first brand to introduce the motorized rotating camera, the Ultra HD feature and the 5x Dual Camera Zoom technology.

The web-clinging, building-swinging, superhero needs a gadget that is good at taking photos from all sorts of angels, light variations and all kinds of situations. The newly launched OPPO F3, the Dual Selfie camera phone caters to the audience’s need of wider and better selfies. With Double View Group Selfie Camera and powerful specs, the OPPO F3 can help you click perfect selfies in one go. With such amazing technology even our friendly, neighborhood Spider-Man would be impressed with F3 phone and its photo taking capabilities.

OPPO established an association with Sony & Marvel to release the highly-anticipated Spider–Man: Home Coming, which is screening in local theaters from 7 July, 2017.  The Sony-Marvel superhero movie is flying to a $120 million opening, surpassing even the most optimistic industry expectations. The sixth Spider-Man film in just over 15 years ended its opening weekend as Sony’s second-highest opening of all time. That makes “Homecoming” also the second-highest opening for a “Spider-Man” movie.

Along with the release of the movie, OPPO is running an online campaign, starting from 6 July, 2017 till 15 July, 2017. Consumers are invited to share the new TVC on Facebook with hashtags #OPPOxSpiderMan and #OPPOF3, the lucky winners will stand a chance to win free tickets of the movie!

This is OPPO’s second association with Marvel movies in the last one year. Last October, OPPO associated with Marvel’s Dr. Strange and held a special screening for the movie.

OPPO is dedicated to delivering customers with the most extraordinary experience through innovative technology, meticulous design and camera expertise. OPPO first launched selfie-focused smartphones in 2015 – Selfie Expert F series in Pakistan. Its first batch of products received a warm welcome and the brand leads the trend in the industry.

Check out OPPO’s new TVC showcasing the F3 phone.

عمران خان اور نوازشریف کا موازنہ: کالم محمد بلال غوری

عمران خان اور نوازشریف کا موازنہ: کالم محمد بلال غوری


عمران خان اور نوازشریف کا موازنہ: کالم محمد بلال غوری

ایک شخص کی شرمندگی دوسرے کے نزدیک احتساب ہے۔ امریکی معالج اور وزیر صحت ٹام پرائس

کوئی بھی شخص بہت دیر تک اپنے چہرے پر کوئی مصنوعی چہرہ نہیں سجا سکتا، جب وہ بے نقاب ہوتا ہے تو لوگ متذبذب ہو جاتے ہیں کہ اس کا کون سا چہرہ اصلی ہے۔ معروف ناول نگار اور مصنف نتھائیل ہاتھورن 

کل کسی کام سے جاتے وقت ٹریفک وارڈن نے روک لیا اور ڈرائیونگ لائسنس دکھانے کو کہا۔ میں نے آگے والی نشست پر اپنے ساتھ بیٹھے دوست کا ڈرائیونگ لائسنس پیش کرتے ہوئے کہا ''میرا ڈرائیونگ لائسنس تو دستیاب نہیں، یہ مجھ سے کم درجے کا ڈرائیور ہے اس کے لائسنس سے کام چلا لیں‘‘۔ ٹریفک وارڈن نے چالان کرکے جرمانے کی رسید ہاتھ میں تھما دی۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو پاس بیٹھے دوست نے کہا‘ چند ماہ قبل میں ایک ادارے میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گیا تو انہوں نے مجھ سے تعلیمی اسناد مانگیں۔ میں نے گھر میں بہت ڈھونڈا مگر تعلیمی اسناد نہ مل سکیں۔ آخرکار میں اپنے ایک کلاس فیلو کا رزلٹ کارڈ ساتھ لے گیا اور انٹرویو لینے والوں کو بتایا کہ میرا یہ بنچ فیلو میرے مقابلے میں کم ذہین تھا‘ مگر اس نے اتنے اچھے نمبر لئے ہیں تو آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ میں نے کتنے نمبر لئے ہوں گے۔ ساتھ ہی میں نے اپنے استاد کا ریفرنس لیٹر پیش کیا مگر انہوں نے تمام اصلی دستاویزات کے باوجود مجھے نااہل قرار دے دیا۔ سوچا تھا، ایسے ہی کچھ مزید تمثیلی واقعات بھی پیش کروں گا مگر پھر خیال آیا کہ ایسی بے ڈھب باتیں کرنے اور سوالات اٹھانے والوں کو تو ''پٹواری‘‘ اور ''لفافہ‘‘ کہا جاتا ہے اور پھر ریٹنگ بھی نہیں ملتی اور اب تو اپنی ہی کمین گاہ سے اس طرح کے تیر آنے لگے ہیں تو چلو مٹی پائو ان باتوں پر۔

بعض سیاسی جماعتوں نے جو ''کنوئیں کے مینڈک‘‘ پال رکھے ہیں ان کی طرف سے تنقید کرنے والے صحافیوں پر لفافہ لینے کے الزامات لگانا تو اچنبھے کی بات نہیں مگر ''بڑے صحافی‘‘ جو شاید مزید ''بڑا‘‘ بننے کی چاہ میں اچانک پانسہ پلٹ کر ''مقبول ترین موقف‘‘ اختیار کئے ہوئے ہیں‘ نے بھی فتویٰ جاری کر دیا ہے کہ جو لوگ عمران خان اور نواز شریف کی منی ٹریل میں فرق نہیں کرتے اور ان کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی دستاویزات میں سے ''قطری خط‘‘ برآمد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ انہوں نے پیسے پکڑ رکھے ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ معاملہ خواہ نواز شریف کا ہو یا عمران خان کا، میرے نزدیک تو اس کا احتساب سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام اصولوں سے مبرا سیاسی ریسلنگ ہے جس میں حریف ایک دوسرے کو پٹخنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہماری حیثیت محض تماشائی کی ہے۔ عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ اس سیاسی دنگل میں ان کا ہر دائو آغاز میں تو بہت مہلک محسوس ہوتا ہے مگر انجام کار نہ صرف ناکام ہوتا ہے بلکہ ان کے اپنے گلے پڑ جاتا ہے۔ اسے قسمت کا ہیر پھیر کہیں یا پھر مکافاتِ عمل‘ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کی ہر تدبیر الٹی ہو جاتی ہے۔ پاناما کا معاملہ ہی دیکھ لیں، انہوں نے نہایت پُرخلوص تحریک چلائی اور قوم کو بتایا کہ آف شور کمپنیاں وہ بناتے ہیں‘ جنہوں نے ناجائز طریقے سے مال بنایا ہوتا ہے۔ ان کے چاہنے والے اس بات پر ایمان لے آئے‘ مگر چند روز بعد ''نیازی سروسز‘‘ نامی آف شور کمپنی برآمد ہو گئی۔ اپنے سیاسی مخالفین سے رسیدیں اور منی ٹریل مانگتے وہ خود اس گڑھے میں جا گرے۔ جب شریف خاندان کا ٹرائل ہو رہا تھا تو انہوں نے قائد اعظم کی کوئی پرانی رسید ڈھونڈ نکالی اور فرمایا ''اگر کمائی جائز اور آمدن حلال کی ہو تو سو سال بعد بھی حساب کتاب دیا جا سکتا ہے‘‘ مگر اب اپنی باری آئی تو ٹکا سا جواب دے دیا کہ جس ادارے کے لئے کائونٹی کرکٹ کھیلتا تھا، اس کے پاس 20 سال سے پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ادارے کے پاس ریکارڈ موجود نہیں مگر آپ کے پاس تو حساب کتاب ہونا چاہئے کہ آپ نے کب کتنا معاوضہ لیا؟ کسی اور کا احتساب ہو رہا ہو اور وہ اپنی آمدن کا حساب کتاب نہ دے سکے تو وہ چور اور کرپٹ ہے‘ لیکن آپ کی باری آئے تو میزان عدل ہی بدل جائے؟ شریف خاندان نے کہا، ہمارے پاس حساب کتاب تو نہیں مگر بطور ثبوت یہ قطری خط موجود ہے جس کے ساتھ ہماری کاروباری شراکت داری تھی۔ آپ نے کہا: 20 سال پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں مگر جس کائونٹی کے لئے کرکٹ کھیلی اس کے ڈائریکٹر کا خط پانچ روپے کے پاکستانی ٹکٹ لگا کر پیش کر دیا۔ اب اگر کہا جائے کہ اس خط کو آپ نے اپنے دفاع میں پیش کیا اور جب تک خط لکھنے والا عدالت میں پیش ہو کر اس کے مندرجات کی تصدیق نہ کرے، اسے ردی کا ٹکڑا تصور کیا جائے گا، یا کوئی یہ تبصرہ کرے کہ خط لکھنے والا آپ کا گواہ ہے، اسے آپ پیش کریں، وہ نہ آیا تو آپ کا مقدمہ فارغ، تو ایسی باتیں کرنے والے یقینا ''پٹواری‘‘ اور''لفافے‘‘ کہلائیں گے۔

کپتان کے بہی خواہوں کا استدلال یہ ہے کہ نواز شریف متعدد مرتبہ عوامی عہدوں پر براجمان رہے جبکہ عمران خان پبلک آفس ہولڈر نہیں، اس لئے دونوں کا موازنہ مناسب نہیں۔ طفلانِ انقلاب کے الفاظ مستعار لئے جائیں تو ایک نے قومی خزانہ لوٹ کر اثاثے بنائے اور دوسرے نے اپنی کمائی سے جائیداد خریدی، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عمران خان اور نواز شریف میں فرق تو ہے لیکن اس کی نوعیت کچھ اور ہے۔ عمران خان کا معاملہ اس لئے مختلف ہے کہ وہ پاکبازی کا دعویدار اور احتساب کا علمبردار ہے۔ اگر عمران خان شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں کی طرف پتھر اچھالتا رہا ہے تو پھر اس کا احتساب دیگر افراد کے مقابلے میں کڑا ہونا چاہئے۔ 

اب آتے ہیں پبلک آفس ہولڈر والے اعتراض کی طرف۔ شریف خاندان کا موقف بھی یہی ہے کہ تمام اثاثہ جات ذاتی کاروبار سے بنائے گئے جو نواز شریف کے سیاست میں آنے سے پہلے کا ہے۔ان کا استدلال ہے کہ وہ اپنے ذاتی اور خاندانی کاروباری معاملات کا حساب کیوں دیں؟ بطور پبلک آفس ہولڈر کسی منصوبے میں رشوت لی گئی ہے، کرپشن کی گئی ہے تو اس کی نشاندہی کریں اور حساب لیں‘ لیکن آپ کا موقف یہ ہے کہ قیادت کے منصب پر فائز کسی بھی شخص کے ذرائع آمدن اور طرز زندگی میں مطابقت نہیں تو اسے اپنی اثاثہ جات کی منی ٹریل دینا چاہئے۔ عمران خان پبلک آفس ہولڈر نہیں اور نہ ماضی میں کبھی برسر اقتدار رہے ہیں‘ لیکن وہ ایک ایسی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں جس کے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے۔ ان کے آس پاس ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں ان کے سیاسی مخالفین ''اے ٹی ایم‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ برسہا برس سے ان کا کوئی کاروبار نہیں تو یہ سوال کیسے نہ اٹھے کہ ان کے شاہانہ طرز زندگی کی منی ٹریل کیا ہے؟

عمران خان عدالت میں منی ٹریل نہ ہونے کا اعتراف کر چکے، اب نااہلی کی تلوار ان پر بھی لٹک رہی ہے۔ نواز شریف صاحب پاکستانی سیاست کے ہیری ہائوڈینی ہیں جن کا بچ نکلنے میں کوئی ثانی نہیں۔ قانونی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ اس لئے نااہلی سے بچ جائیں گے کہ اثاثہ جات کا براہ راست ان سے تعلق نہیں۔ آف شور کمپنیاں ہوں یا لندن فلیٹ، سب بچوں کی ملکیت ہیں‘ لیکن عمران خان کا بچنا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے کیونکہ آف شور کمپنی اور دیگر اثاثہ جات پر براہ راست وہی جوابدہ ہیں۔

کرٹیسی: روزنامہ دنیا


یہ غریب مسکین لٹیرے : محمد سعید آرائیں

یہ غریب مسکین لٹیرے : محمد سعید آرائیں


یہ غریب مسکین لٹیرے : محمد سعید آرائیں

دینی کمائی کے واحد مبارک مہینے رمضان المبارک میں مہنگائی کے نئے ریکارڈ قائم ہونا تو پاکستان میں معمول بن چکا ہے اور ماہ صیام میں ہر چیز کے نرخ بڑھ جانا کوئی نئی بات نہیں رہی بلکہ اب توگزشتہ کئی سالوں سے رمضان سے قبل ہی نرخ بڑھ جانا اور عید کے بعد بھی مہنگے نرخ برقرار رکھنا بھی عام ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب گاہکوں اورگراں فروشوں کے درمیان یہ مکالمے ہوتے ہیں کہ ابھی رمضان نہیں آیا اور نرخ کیوں بڑھے اور عید کے بعد کہ رمضان تو اب ختم ہوگیا ہے نرخ کم کیوں نہیں ہو رہے جس کا ہر جواب گراں فروشوں کے پاس ہے اورگاہک مجبور اور لاجواب ہوکر رہ جاتا ہے۔ اب یہ بات بھی بڑھ رہی ہے کہ مہنگا فروخت کرکے کیوں لوٹ رہے ہوکچھ تو خیال کرو تو جواب ملتا ہے کہ حکومت کون سا ہمارا خیال کر رہی ہے کہ خیال کریں حکمران ہمیں لوٹ رہے ہیں تو ہم کہاں جائیں۔

مہنگائی بڑھنے کا یہ جواب عام چھوٹے دکانداروں، ریڑھی پتھارے والوں سے تو مل جائے گا اور لوگ ان سے وجہ بھی پوچھ لیں گے لیکن بڑے دکانداروں، مشہور ہوٹلوں، ہول سیلرز اور دیگر چلتی اشیا فروخت کرنے والوں سے مہنگائی کا سبب نہ کوئی پوچھ سکتا ہے نہ نوٹ وصول کرنے والوں کو دکاندار نہیں بلکہ پیچھے کھڑا گاہک ہی کہہ بیٹھے گا کہ لینا ہے تو لو کیوں ہمارا وقت ضایع کر رہے ہو ہمیں لینے دو۔

روزانہ لاکھوں روپے کی دکانداری کرنے والے ان کروڑ پتی تاجروں کا کام مرضی کے نرخ لگا کر بل تھمانا اور خریدار کا کام قیمت معلوم کیے اور معیار دیکھے بغیر ادائیگی کرکے پیچھے ہٹ جانا ہی رہ گیا ہے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ ملک کے ہر بڑے شہر کے ہر علاقے میں نرخ مختلف وصول کیے جاتے ہیں۔ پوش علاقوں میں نرخ معلوم کرنے کا تو رجحان کم ہی ہے اور نرخ پوچھنا بے عزتی سمجھی جاتی ہے باقی رہ گئے غریبوں اور متوسط طبقے کے علاقے تو وہاں بھی بے چارے غریب مسکین لٹیرے ہی موجود ملیں گے جو گاہک نہ ہونے پر آوازیں دیتے ہیں اور اکثر خاموش رہتے ہیں اور گاہک کے نرخ پوچھنے پر پہلے زیادہ نرخ بتائیں گے۔ پھر معمولی رقم کم کرکے احسان جتائیں گے کہ دوسروں کو ساٹھ کا بیچا ہے تمہیں 50 لگا دوں گا بولو کتنا دوں۔ گاہک اس کی یہ خاص مہربانی سمجھ کر خریداری کرلیتا ہے جب کہ وہ چیز صبح سے ہی پچاس روپے کی فروخت کی جا رہی ہو۔

ہول سیلرز اور بڑی منڈیوں سے خریداری کر کے ریڑھیاں اور پتھارے سجا کر فروخت کرنے والے بھی لٹیروں سے کم نہیں جو سستا مال خرید کر بھی ڈبل نرخ پر فروخت کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور منڈی یا مارکیٹ آنے جانے اور باربرداری کے اخراجات کے نام پر ہر چیز مہنگی سے مہنگی فروخت کرنا ضروری اور اعتراض پر منڈی مارکیٹ سے مال مہنگا ملنے کا رونا روکر گاہک کو مطمئن کرنے کی کوشش میں خود مظلوم بن جاتے ہیں اور کبھی منڈی اور مارکیٹ نہ جانے اور حقائق کا علم نہ رکھنے والا خاموش ہوجاتا ہے۔

ریڑھیاں اور پتھارے پہلے ارزاں قیمت پر فروخت ہونے والی اشیا ضرورت کی خریداری کے لیے مشہور تھے اور بعض کھانے پینے کی اشیا معیاری ہونے کی وجہ سے معروف تھے۔ جنھیں موقع کی جگہ میسر آئی اور کاروبار چل پڑا تو ان کے نہ صرف وارے نیارے ہوئے بلکہ انھوں نے فروخت بڑھنے پر نرخ کم نہیں کیے بلکہ عوام کو لوٹنے کے لیے بڑھانا شروع کردیے۔سڑکوں، فٹ پاتھوں پر قبضے، چوری، کنڈے یا قریبی دکانداروں سے کرائے کی بجلی لے کرکاروبار کرنے والوں کے اخراجات کم اور منافع مناسب ہوا کرتا تھا مگر جب سے انھوں نے بھی اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھانا شروع کیا وہ بھی لٹیرے بن گئے۔

پولیس اور بلدیاتی عملے کی ملی بھگت سے سڑکوں اور فٹ پاتھ پر کرسیاں لگوا کرکاروبار بڑھانے والوں سے معیار کا کوئی پوچھتا ہے نہ کوئی نرخ چیک کرنے والا ہو اور معیار کی بجائے رش دیکھ کر خریداری کرنے والے ہوں تو انھیں روکنے والا کون ہے کچھ ہی ریڑھی پتھارے والا صاحب حیثیت بن کر قریبی جگہ خرید لیتا ہے جسے وہ پکانے اور اسٹور کے طور پر استعمال کرتا ہے مگر ریڑھی پتھارے کی جگہ خالی نہیں کرتا کیونکہ وہی تو اس کی مالی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں اب بھی ایسی ریڑھیاں پتھارے موجود ہیں جن کے مالکان غریب و مسکین کہلاتے ہیں مگر اب وہ ایک نہیں کئی عمارتوں کے مالک ہیں اور اب ریڑھے پتھاروں کی جگہ ہوٹل اور خوبصورت عمارتوں میں کاروبار ہو رہا ہے جن کے پاس ملازمین کی فوج، گاڑیوں کی لائنیں ہیں اور عمارتوں پر عمارتیں بن رہی ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ یہ کروڑ پتی لٹیرے ترقی کے نام پر ریڑھی پتھاروں سے عوام کو لوٹ کر امیر بنے ہیں۔

یہ حکومت کو کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے، بغیر میٹر کی بجلی استعمال کرتے ہیں اور ان کی بجلی کی چوری کے بل علاقے والوں کے حساب میں جاتے ہیں۔ یہ حال ریڑھی پتھارے والوں کے علاوہ چھوٹی دکانوں میں کام کرنے والوں، دودھ فروشوں، چائے خانوں، پنکچر لگانے والوں، باربروں، پھل اور سبزیاں اور کھانے پینے کی دیگر اشیا فروخت کرنے والوں کا بھی ہے۔ یہ جب چاہیں نرخ بڑھا دیتے ہیں مگر کوئی حکومتی محکمہ ان سے نہیں پوچھتا کہ وہ نرخ جب چاہیں کیوں بڑھا دیتے ہیں۔

دودھ کی دکانیں خوبصورت بناکر دودھ میں پانی نہ ملانے کی قسم کھانے والے اب غیر معیاری برف ملاتے ہیں جس سے دودھ ٹھنڈا ہوکر گاڑھا نظر آتا ہے اور محفوظ رہتا ہے اور اگر دودھ خراب بھی ہو جائے تو بھی وہ ضایع نہیں ہوتا پھر بھی کام آجاتا ہے۔ دودھ کا معیار کبھی چیک نہیں کیا جاتا اور دودھ فروش ہول سیلرز کے بہانے ہر سال نرخ بڑھاتے جاتے ہیں اور نقصان کے رونے کے ساتھ ان کی دکانیں بھی بڑھ رہی ہیں اور جائیدادیں بھی مگر ان کا رونا نہیں جاتا۔ پلیٹوں میں کھانے اور گلاسوں میں پینے کی اشیا فروخت کرنے والوں کے نرخ کو کوئی نہیں پوچھتا۔ دہی بڑوں اور دہی پھلکیوں، ربڑی اور کھیر فروخت کرنے والوں کی پلیٹوں کے نرخ بڑھتے اورمقدار کم ہوتی رہتی ہے جن کے معیار کو کوئی چیک کرنے والا نہیں۔ رمضان میں پکوڑے، سموسے اور پھل فروشوں کو تو مہنگا مال فروخت کرکے گیارہ ماہ میں اتنی کمائی نہیں ہوتی جتنی رمضان میں ہوجاتی ہے۔

مٹھائی فروشوں کے مطابق ان کی دکان میں فرش پر گرا شیرے کا ایک قطرہ بھی ضایع نہیں ہوتا اور بیکری اشیا کمائی کا بہترین ذریعہ ہیں جو شوکیسوں میں سجی بڑی خوبصورت نظر آتی ہیں اور انھیں بنتے ہوئے کوئی دیکھ لے کھانا چھوڑ دے۔ خراب انڈوں، غیر معیاری گھی و دیگر ایسنس سے بنی اشیا کا معیار صرف چھوٹی دکانوں پر نہیں بلکہ بڑے بڑے نام والے اداروں کا بھی مضر صحت اور غیر معیاری ثابت ہوچکا ہے مگر لوگ وہاں کے سرکاری اداروں کے چھاپے ہی بھول جاتے ہیں تو چھوٹی دکانوں کا کیا حال ہے یہ صرف انسانیت سے محروم، بے حس، لٹیرے ہی جانتے ہیں جن پر اعتماد اب بری طرح متاثر ہوچکا ہے اور کہیں بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومتوں کو اقتدار عزیز ہو تو عوام انھیں کیوں یاد آئیں بس سارا حساب میں ہی ہوگا اگر یہ بھی یاد رکھا جائے کیونکہ ضمیر تو مردہ ہوچکے ہیں۔

بشکریہ: ایکسپریس


نواز شریف کے لئے ریکارڈ ٹمپرنگ کرنے والے ، ظفر حجازی کو کلین چٹ ملنے والی ہے؟؟؟

نواز شریف کے لئے ریکارڈ ٹمپرنگ کرنے والے ، ظفر حجازی کو کلین چٹ ملنے والی ہے؟؟؟

نواز شریف کے لئے ریکارڈ ٹمپرنگ کرنے والے ، ظفر حجازی کو کلین چٹ ملنے والی ہے؟؟؟



LG HOM-BOT Intelligence Rated Highest by Robotics Lab

LG HOM-BOT Intelligence Rated Highest by Robotics Lab

Karachi:- LG Electronics revolutionized the vacuum cleaner industry 16 years ago with the commercialization of one of the world’s first robotic vacuum cleaners. LG engineers took advantage of the head start and years of home appliance robotics experience to develop this year’s HOM-BOT Turbo+, which was just recognized by Seoul National University (SNU) Robotics & Intelligent Systems Lab, the robotics program in the nation’s top university, as the most human-like robotic vacuum cleaner in the industry. 

Artificial intelligence, or AI, which is at the core of all of today’s advanced robots, has many definitions, one of them being the ability to learn from experience. Robots, contrary to science fiction and Hollywood, do not need to be intelligent but they must be machines capable of performing some type of work. Most of today’s best robotic vacuum cleaners have the ability to learn. However, not all robot vacuums learn at the same cognitive level, according to the SNU Robotics Lab results. 

The university tested robot vacuum cleaners from leading manufacturers to measure their intelligence in the three areas of perception, judgment and action and classified the results into one of three levels of intelligence. The HOM-BOT Turbo+ earned the highest marks, a level the testers labeled Child (the others being Ape and Dolphin) because the SNU Robotics Lab equated the learning ability of the HOM-BOT Turbo+ to that of a six- or seven-year-old adolescent. By utilizing the convolutional neural network (CNN) technique LG engineers are able to give the robot the ability to distinguish between a human and a dog by analyzing stored image data. The LG robot vacuum’s acuity of perception and judgment - two of the core facets of a high performing AI - improved significantly with the incorporation of LG DeepThinQ™ technology in the latest model, rising from Ape level two years prior. 

What separates LG HOM-BOT Turbo+ with DeepThinQ from competing models is its ability to not only recognize obstacles and chart the most efficient course around the home, but its ability to allow for human intervention. For example, when the vacuum comes across a human, it waits for a brief moment to allow the individual time to move out of the way. However, for furniture and other immobile obstructions, the LG robot vacuum knows not to wait and simply goes around and continues cleaning. It’s this kind of analysis which SNU Robotics Lab found to be unique and noteworthy in the category. 

“At LG we take tremendous pride in developing not only the best appliances but the smartest appliances as well,” said Song Dae-hyun, president of LG Electronics Home Appliance & Air Solutions Company. “And what we’ve learned in the home is also being applied to our newest robots outside the home, such as our Airport Robot, which will be going into service later this month at Incheon International Airport.”



Zong 4G in Collaboration With #LePhone Launches the Most Affordable Line of 4G handsets

Zong 4G in Collaboration With #LePhone Launches the Most Affordable Line of 4G handsets

Zong 4G in Collaboration With #LePhone Launches the Most Affordable Line of 4G handsets

Zong 4G, Pakistan’s No.1 4G network, has collaborated with LePhone to launch affordable 4G handsets in Pakistan. Under this partnership, 3 variants of LePhone’s 4G handsets have been launched in an elegant event hosted at Zong 4G’s flagship Service Center in Lahore. This partnership is in line with Zong 4G’s objective of creating a complete 4G ecosystem in Pakistan, enabling high speed connectivity for the masses and revolutionizing the lifestyle of the Pakistani people.

In the ceremony, senior officials of Zong 4G outlined the importance of 4G for the people of Pakistan and its role in taking the country forward on the path of progress, enabled with high speed internet. Zong 4G has served as an enabler of rapid technological advancements in the country. Earlier this year, Zong 4G had announced their plans to upgrade 100% of its network to 4G, taking the total number of 4G sites to 10,500. Currently, Zong 4G provides 4G connectivity to over 300 cities of Pakistan and is aggressively expanding its footprint in both the Urban and Rural areas of the country. Introduction of affordable 4G handsets by Lephone in collaboration with Zong 4G will further accelerate the transition of 2G & 3G users to 4G and increase 4G adoption in the country.

Following 3 handset models shall be available to customers across selected Zong 4G outlets, starting 21st of July, 2017:-

1.       LePhone W7+

2.       LePhone W11

3.       LePhone W12 

Handset Specification and Prices details attached.

LAUNCH
Released
Availability
 Available
BODY
Dimensions
 142.3 x 71.4 x 8.4 mm
Weight
 150g
SIM Slot
 Dual SIM (Micro SIM )
DISPLAY
Type
 IPS LCD capacitive touchscreen
Size
 5.0 inches’ (~68.3% screen-to-  body ratio)
Resolution
 1280 x720 pixels (320 dpi)
Multi-touch
 Yes, 5-points
NETWORK
Network Support
 GSM/3G/LTE
2G Bands
 900/1800
3G Bands
 2100
4G Bands
 1800
Speed
 HSPA 42.2/5.76 Mbps, LTE Cat4 150/50 Mbps
PLATFORM
Os
 Android OS v6.0 (Marshmallow)
Chipset
 Spreadtrum SC9832A
CPU
 Quad-core 1.3 GHz (32-bit)
GPU
 Mali-400 MP
MEMORY
Card Slot
 Yes, up to 32 GB
internal
 8 GB, 1 GB
CAMERA
Primary
 5MP, LED flash light
Features
 Geo-tagging, touch focus
Video
 720p@30fps
Secondary
 5MP, 480p
COMMS
WLAN
 Wi-Fi 802.11 b/g/n, hotspot
Bluetooth
 v4.0
GPS
 Yes, with A-GPS
Radio
 Yes
USB
 microUSB v2.0
FEATURES
Sensors
 Accelerometer, proximity,  compass
BATTERY
 Removable Li-Ion 1800 mAh  battery
PRICE
 PKR 8,990
OTHERS
Colors
 Black, White, Gold

Price and Specifications of Lephone W11:
LAUNCH
Released
Availability
 Available
BODY
Dimensions
 142.3 x 71.2 x 8.6 mm
Weight
 160g
SIM Slot
 Dual SIM (Micro SIM )
DISPLAY
Type
 IPS LCD capacitive touchscreen
Size
 5.0 inches’ (~68% screen-to-  body ratio)
Resolution
 1280 x720 pixels (320 dpi)
Multi-touch
 Yes, 5-points
NETWORK
Network Support
 GSM/3G/LTE
2G Bands
 900/1800
3G Bands
 2100
4G Bands
 1800
Speed
 HSPA 42.2/5.76 Mbps, LTE Cat4 150/50 Mbps
PLATFORM
Os
 Android OS v6.0 (Marshmallow)
Chipset
 Spreadtrum SC9832A
CPU
 Quad-core 1.3 GHz (32-bit)
GPU
 Mali-400 MP
MEMORY
Card Slot
 Yes, up to 32 GB
internal
 16 GB, 1 GB
CAMERA
Primary
 8MP, LED flash light
Features
 Geo-tagging, touch focus
Video
 720p@30fps
Secondary
 2MP, 480p
COMMS
WLAN
 Wi-Fi 802.11 b/g/n, hotspot
Bluetooth
 v4.0
GPS
 Yes, with A-GPS
Radio
 Yes
USB
 microUSB v2.0
FEATURES
Sensors
 Accelerometer, proximity,  compass, Fingerprint
BATTERY
 Removable Li-Ion 2000 mAh  battery
PRICE
 PKR 10,600
OTHERS
Colors
 Black, White, Gold

Price and Specifications of Lephone W12:
LAUNCH
Released
Availability
 Available
BODY
Dimensions
 143.2 x 71.2 x 9.3 mm
Weight
 147g
SIM Slot
 Dual SIM (Micro SIM )
DISPLAY
Type
 IPS LCD capacitive touchscreen
Size
 5.0 inches’ (~68% screen-to-  body ratio)
Resolution
 1280 x720 pixels (320 dpi)
Multi-touch
 Yes, 5-points
NETWORK
Network Support
 GSM/3G/LTE
2G Bands
 900/1800
3G Bands
 2100
4G Bands
 1800
Speed
 HSPA 42.2/5.76 Mbps, LTE Cat4 150/50 Mbps
PLATFORM
Os
 Android OS v6.0 (Marshmallow)
Chipset
 Spreadtrum SC9832A
CPU
 Quad-core 1.3 GHz (32-bit)
GPU
 Mali-400 MP
MEMORY
Card Slot
 Yes, up to 32 GB
internal
 16 GB, 1 GB
CAMERA
Primary
 8MP, LED flash light
Features
 Geo-tagging, touch focus
Video
 720p@30fps
Secondary
 2MP, 480p
COMMS
WLAN
 Wi-Fi 802.11 b/g/n, hotspot
Bluetooth
 v4.0
GPS
 Yes, with A-GPS
Radio
 Yes
USB
 microUSB v2.0
FEATURES
Sensors
 Accelerometer, proximity,  compass
BATTERY
 Removable Li-Ion 1800 mAh  battery
PRICE
 PKR 9,990
OTHERS
Colors
 Black, White, Gold