بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے
چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میں
دو گھڑی کے لئے صیّاد زباں ٹھہری ہے
آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روک
آگ نِکلی ہے لگا کر یہ جہاں ٹھہری
ہے صُبح سے جنبشِ ابرو و مژہ سے پیہم
نہ تِرے تیر رُکے ہیں نہ کماں ٹھہری ہے
دم نکلنے کو ہے ایسے میں وہ آجائیں قمر
صرف دم بھر کے لیے رُوح رواں ٹھہری ہے
اُستاد قمر جلالوی (1968-1887)
Author: Admin
Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: