کاش میں دور پیغمبر ﷺ میں اٹھایا جاتا.
بخدا قدموں میں سرکار ﷺ کے پایا جاتا.
ساتھ سرکار ﷺ کے غزوات میں شامل ہوتا.
ان کی نصرت میں لہو میرا بہایا جاتا.
ریت کے ذرّوں میں اللہ بدل دیتا مجھے.
پھر مجھے راہ سرکار ﷺ میں بچھایا جاتا.
خاک ہوجاتا میں سرکار ﷺ کے قدموں کے تلے.
خاک کو خاک مدینہ میں ملایا جاتا.
مل کے سب لوگ مجھے مٹی سے گارا کرتے.
پھر مجھے مسجد نبوی ﷺ میں لگایا جاتا.
کاش اے کاش...میں ہوتا کوئی ایسی لکڑی.
جسکو سرکار ﷺ کے ممبر میں لگایا جاتا.
ان کے روضے کے در و بام سجانے کے لیے.
روزنو میں میری آنکھوں کو لگایا...
Author: Admin
Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: