#Urdu ghazal - ab to shehron se khabar ati hi diwanoon ki اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی : احمد ندیم قاسمی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی : احمد ندیم قاسمی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
کوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی

اپنی پوشاک سے ہشیار! کہ خدام قدیم
دھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی

صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں ، مگر اس کے ساتھ
سرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی

دل میں وہ زخم کھلے ہیں چمن کیا شے ہے
گھر میں بارات سی اتری ہے گلدانوں کی

ان کو کیا فکر کہ میں پار لگا ، یا ڈوبا
بحث کرتے رہے ساحل پہ جو طوفانوں کی

تیری رحمت تو مسلّم ہے مگر یہ تو بتا
کون بجلی کو خبر دیتا ہے کاشانوں کی

مقبرے بنتے ہیں زندوں کے مکانوں سے بلند
کِس قدر اوج پہ تکریم ہے انسانوں کی

ایک اِک یاد کے ہاتھوں پہ چراغوں بھرے طشت
کعبۂ دل کی فضا ہے کہ صنم خانوں کی



SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: