Google+ page

بکنے سے تو شائد مجھے انکار نہیں تھا
یہ بات الگ کہ کوئی خریدار نہیں تھا

سمجھاتا اسے فرق کیا ظلم و وفا میں
جب اسکی نظر میں کوئی معیار نہیں تھا

ہر گھونٹ غمِ دل کا پیا میں نے اکیلے
اچھا ہوا کوئی میرا غم خوار نہیں تھا

الزام میری زات پہ سب اس نے لگائے
جس شخص کا اپنا کوئی کردار نہیں تھا

محسن کہیں لوگوں کی خطا بھی نہ ہو شامل
میں اتنی سزاؤں کا تو حقدار نہیں تھا

محسن نقوی



Post a Comment

Previous Post Next Post