Google+ page


بھڑکائیں میری پیاس کو اکثر تیری آنکھیں
صحرا میرا چہرہ ہے سمندر تیری آنکھیں

پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تیری آنکھیں

خالی جو ہوئ شام غریباں کی ھتھیلی
کیا کیا نہ لٹاتی رہی گوھر تیری آنکھیں

بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اُتَر کر تیری آنکھیں

اب تک میری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی شام کا منظر ، تیری آنکھیں

ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نا لیں خواب کی چادر تیری آنکھیں

میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
شائد مجھے دیکھں گی پلٹ کر تیری آنکھیں

یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسن
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تیری آنکھیں


- See more at: http://www.myvoicetv.com/


Post a Comment

Previous Post Next Post