بھیڑ ہے بر سر بازار کہیں اور چلیں
آمرے دل مرے غمخوار کہیں اور چلیں
کوئی کھڑکی نہیں کھلتی کسی باغیچے میں
سانس لینا بھی ہے دشوار کہیں اور چلیں
تو بھی مغموم ہے میں بھی ہوں بہت افسردہ
دونوں اس دکھ سے ہیں دوچار کہیں اور چلیں
ڈھونڈتے ہیں کوئی سر سبز کشادہ سی فضا
وقت کی دھُند کے اس پار کہیں اور چلیں
یہ جو پھولوں سے بھرا شہر ہوا کرتا تھا
اس کے منظر ہیں دل آزار کہیں اور چلیں
ایسے ہنگامہ محشر میں تو دم گھٹتا ہے
باتیں کچھ کرنی ہیں اس بار کہیں اور چلیں
اغتبار ساجد
Author: Admin
Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

Very nice poetry
ReplyDelete