یہ سوچ کر میں اس کے برابر نہیں گیا ..
دریا کے پاس کوئی سمندر نہیں گیا ...
شاید سفر ہمارا کسی دائرے میں ہے ..
رستے سے کوئی میل کا پتھر نہیں گیا ...
کتنے ہی آسمان دھواں ہوتے دیکھ کر ..
میں اپنی سطح سے کبھی اوپر نہیں گیا ...
اس کا خلوص اس کی وفا اس کی بے رخی ..
میں اس کے گھر کے پاس گیا گھر نہیں گیا ...
وہ اس میں مطمئن ہے کہ دستار بچ گئی ..
مجھ کو ملال ہے کہ میرا سر نہیں گیا ...
شاعر نا معلوم
Author: Admin
Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: