Google+ page

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا 
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا 

اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے 
روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا 

پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی 
جس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا 

مرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کی 
اس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا 

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک 
جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا​



Post a Comment

Previous Post Next Post