اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا : مکمل شاعری پڑھنے کے لئے لنک کھولیں

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا 
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا 

اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے 
روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا 

پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی 
جس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا 

مرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کی 
اس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا 

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک 
جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا​




SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: