منور رانا کی شاعری : ہنسنا بھی آسان نہیں ہے، لب زخمی ہو جاتے ہیں

رونے میں اک خطرہ ہے، تالاب، ندی ہو جاتے ہیں
ہنسنا بھی آسان نہیں ہے، لب زخمی ہو جاتے ہیں

اسٹیشن سے واپس آ کر بوڑھی آنکھیں سوچتی ہیں
پتے دیہاتی ہوتے ہیں، پھل شہری ہو جاتے ہیں

گاؤں کے بھولے بھالے باسی، آج تلک یہ کہتے ہیں
ہم تو نہ لیں گے جان کسی کی، رام دکھی ہو جاتے ہیں

سب سے ہنس کر ملیے جلئے، لیکن اتنا دھیان رہے
سب سے ہنس کر ملنے والے، رسوا بھی ہو جاتے ہیں

اپنی انا کو بیچ کے اکثر لقمۂ تر کی چاہت میں
کیسے کیسے سچے شاعر درباری ہو جاتے ہیں


منور رانا کی شاعری







SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Post a Comment: